دُختِ کرام

by Other Authors

Page 477 of 497

دُختِ کرام — Page 477

۴۔۷۵ رحلت حض رسیده امتدا دیگر ماه د از محرم محرم عبد المنان صاحب ناہید ) زمین پر مسیحا کے گھر کی میں روانہ ہوئی سوتے عرش بریں جہاں سے میرے لے گئی ہے قضا وہ مہ پارہ آسمان وفا مه وہ زنجیر تبشیر کی اک کڑی تھی خود بھی تو اک موتیوں کی لڑی وہ عالی جناب اور عالی مقام کیا جس کو اللہ نے رختِ کرام گئی اپنے پیاروں سے پیاروں کے پاس ہوا خانوادہ صدی اُداس محبت تو آنکھوں سے بہتی رہی زباں انا لله کہتی رہی وہ ناسازگاری تھی حالات کی بڑھی تیر کی اور بھی رات کی سفر آخرت کا ، بدن چور تھا مگر اس کا ماہر بہت دور تھا تھے وہ سلسلہ ہائے جور و جفا اُسے آکے رُخصت نہ وہ کرسکا نظر سے کہاں ہو گئے ہیں نہاں گھر ہائے آخوش نصرت جہاں صبا! قادیاں کو بھی جاکر سُنا کہ آج اس کا الدار خالی ہوا وہ اس کی محبت کے پالے ہوتے گئے سب کے سب داغ مجرت " لیے میری آنکھ نے تو یہ دیکھا۔گئی گھڑی اور اک لیلتہ القدر کی