دُختِ کرام — Page 478
" آساں کی لحد پر نور افشانی کرے از محرقه صاحبزادی امتہ القدوس صاحبه مربوه دختر احمد مسیح پاک کی لخت جگر ہوں ہزاروں رحمتیں اس کی مبارک ذات پر پاک طینت، با صفا، عالی گهر دخت گرام سیدہ کی جان ، مهدی کی حسیں نور نظر ذات جس کی عظمت اسلاف کا پر تو لیے دہ کہ جو تھی گلشن احمد کا اک شیرین شمر ہستیاں ہوتی ہیں کچھ ایسی کہ جب نصت ہوں جو ساتھ ان کے اک مکمل دور جاتا ہے گذر یہ نشانی بھی میرے محبوب کی رخصت ہوتی دیکھنا چاہے گی پر نہ دیکھ پائے گی نظر اس سے مکر بھی بہت تسکین پا جاتے تھے لوگ فرقت آقا کے زخموں کو وہ کچھ دیتی تھی بھر وار کچھ ایسا اہل کا تھا کہ یکدم گر گیا باردار و خوبصورت ایک چھننا ور شجر