دُختِ کرام

by Other Authors

Page 419 of 497

دُختِ کرام — Page 419

۔ہوش میں آئیں تو کمزوری اتنی تھی کہ بات نہ کر سکتی تھیں ہوش آنے پر جو پہلی چیز آپ نے اشارہ طلب کی وہ پاک مٹی کی تھیلی تھی جس سے تمیم کر کے آپ نماز ادا کرتیں تھیں۔جب اس سے آپ نے تم کیا تو نماز ادا کرنے کی کوشش میں دوبارہ بے ہوش ہوگئیں اور ایسا کئی دفعہ ہوا۔کہ آپ تمیم کر کے نماز ادا کرنے لگتیں تو آپ پر غشی طاری ہو جاتی۔وہ لڑکیاں جو آپ کے پاس رہتی تھیں انہیں نماز بر وقت ادا کرنے کی تلقین فرماتی تھیں اور ہر نماز کے وقت ہر لڑکی کو پوچھتیں کر تم نے نماز ادا کی ہے یا نہیں۔آپ روزانہ فجر کی نماز کے بعد قرآن کریم تلاوت قرآن کریم کی تلاوت فرمائی تھیں آخری ایام میں اگر چہ آپ بوجہ ضعف بیٹھ بھی نہیں سکتی تھیں، لیکن پھر بھی نکیہ کے سہارے بیٹھ کر تلاوت فرماتی تھیں۔پردہ کی بڑی سختی کے ساتھ پابند تھیں چونکہ پردہ کی پابندی کیا آپ بیمار تھیں اور روزانہ ڈاکٹر آپ کو دیکھنے آتا تھا ، لیکن حتی الامکان ڈاکٹروں سے پردہ کرتی تھیں ایک دفعہ کسی نے عرض کی کہ ڈاکٹر تو آپ کو روزانہ دیکھنے آتا ہے اور معائنہ کرتے ہوتے اور بے ہوشی کی حالت میں اس نے آپ کو دیکھا ہوا بھی ہے اس لیے اگر آپ ڈاکٹر سے پردہ نہ کریں تو کیا حرج ہے فرمانے لگیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے عورت غیر مرد سے پردہ کرے اس لیے میں کیوں اللہ تعالٰی کے حکم کی