دُختِ کرام — Page 173
141 ہیں۔فضا تے روحانی سے ایک خاص قسم کی طمانیت بخش خوشبو ماند پڑتی جاتی ہے۔ماہنامہ انصار اللہ ربوہ نے اپنی اشاعت مستی سشوار میں تحریر کیا۔رہے برکت ہمارے آشیاں میں خوشا قیمت ! کہ عصر حاضر میں الٹی نوشتوں کے مطابق مامور زمانہ کی بعثت ہوئی۔وہ پیاری ہستی جس کو پیارے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے " سلام " کا تحفہ بھیجا اور جس کے درو دمسعود پر اہل بصیرت کے دل کی کلی کھل اٹھی اور محکوم کہ یہ سرالاپنے لگی ہے اک زماں کے بعد اب آتی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آدیں یہ دن اور یہ بہار واقعی باغ احمد میں بہار آتی۔گلشن کی رعنائیاں بکھریں اور بھرتی چلی گئیں۔فضا میک اٹھی اور مسکتی چلی گئی۔ر۔بوستان احمد کے بنیادی گل ہائے رعنا کی ایک خاص خوشبو تھی۔ایک خاص رنگ تھا۔ایک خاص تأثیر و برکت تھی۔ان گھوں نے اپنے اپنے رنگ بکھیرے۔مہک پھیلائی اور اپنے اپنے نقطہ نفسی آسمان کی طرف اُٹھائے گئے۔ایک آخری پھول تھا جس کا نام نامی " دخت کرام تھا اور جو 4 رمتی عنہ کو ایک لمبے عرصہ تک فضاؤں کو معطر کر کے ہزاروں محبت کے مارے سوگواروں کے ہاتھوں رخصت ہوا۔