دُختِ کرام — Page 174
147 حضرت نواب سیده امتها الحفیظ بیگم صاحبہ نوراله مرقد پاکی ذات گرامی آخری نشانی تھی یا برکت اولاد کی کہ جس کے ساتھ براہ راست و عدوں کا خزانہ تھا۔آخری ترک تھا اس پیارے امام کا، کہ جس کے شیدائی برکت کے حصول کے لیے ٹوٹے پڑتے تھے۔آخری کرن تھی اُس جلیل القدر ہستی کی ، جس کی ایک جھلک پاکر لاکھوں پروانے قربان ہو ہو جاتے تھے۔اسے قلب حزیں ! اب اس قسم کی بہار کا دور ختم ہوا۔اب یہ واپس نہیں لوٹ سکتی۔یہ پیاری بہار انگ انگ میں سما جانے والی بہار، سانسوں میں بس جانے والی بہار، قلوب کو مدہوش کرنے والی بہار۔یہ بہار آفریں اب رخصت ہوتی۔لیکن اس کی ٹھنڈی ہوا کی پیٹیں اور معطر برکات کی لہریں ابھی زندہ ہیں۔اور وہ اسی طرح تاثیر بخش ہیں جیسے پہلے تھیں۔ان برکات کو ذخیرہ کرنے کے لیے ظرف کی ضرورت ہے۔ان کو سمیٹنے کے لیے وسیع دامن کی ضرورت ہے۔اس دُعا کی ضرورت ہے جو زندہ خدا کے آستانے پر ایسے دستک دیگر فرشتے بیقرار ہو کر برکات کے تمام دروازے کھول دیں اور حضرت مصلح موعود کی اس دُعا کو تعبیر ملے پر رہے برکت ہمارے آشیاں میں ماہنامہ تحریک جدید ربوہ نے جون ۹۸۷ہ کے شمارہ میں حضرت سیدہ وخت کرام کی وفات پر یہ تعزیتی نوٹ شائع کیا۔