دُختِ کرام — Page 172
14° 194ء کے شمارہ میں لکھا: نواب المتہ الحفیظ نگم کی وفات گزشتہ بدھ کو عالمگیر جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں دو بجگر پنتالیس ام منٹ پر (بعد دو پر) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مبشر اولاد جماعت کے موجودہ امام کی پھوپھی اور نواب محمد عبد اللہ خان آف مالیر کوٹلہ کی اہلیہ محترمہ صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وفات کے وقت موصوفہ کی عمر ۸۳ برس تھی - إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - نماز جنازہ اگلے دن جمعرات کو) نماز عصر کے بعد بیت الاقصیٰ میں ادا ہوئی جس میں ہزار ہا افراد نے شرکت کی۔ایک عبادت گزار اور شب زنده دار خاتون شفقت و مروت کا مجسمہ محبت و رافت کی چلتی پھرتی تصویر جس کا دلدار و فلکسا را اور خوش اطوار وجود دکھی اور مفلوک الحال انسانیت کے لیے اُمید و تسکین کا پیغام تھا جس کا دربے سہاروں اور ضرورت مندوں کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا اور جس کی اپنے خالق حقیقی کے دین سے وانها نه شیفتگی و واز تنگی ایک ایمان افروز ولائق صد تقلید نمونے کا حکم رکھتی تھی۔اللہ ان کی بال بال مغفرت فرماتے اور اپنی قربت خاص سے نوازے آمین موت سے کسے مفر ہے۔جو آیا ہے وہ جائے گا۔جو بنا ہے وہ ایک روزہ ٹوٹے گا۔قلق ہے تو اس امر کا کہ جوں جوں محبت ورافت اور دلداری و مروت کے یہ مجھے نگاہوں سے اوجھل ہوتے جاتے