دعائیہ سیٹ — Page 77
نماز قصر ( سفر میں نماز ) شروع میں ظہر وعصر اور عشاء کی نماز میں فجر کی طرح دو دو رکعت تھیں۔لیکن بعد میں سفر کی حالت میں تو یہ دو دو رکعت رہیں لیکن اقامت کی حالت میں دوگنی یعنی چار چار رکعت کر دی گئیں۔اس تبدیلی کی بناء پر ہر مسافر جس کا کسی جگہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو ظہر، عصر اور عشاء کی نماز میں دو دو رکعت پڑھے گا اور مقیم چار چار رکعت پڑھے گا۔مغرب اور فجر کی رکعتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔( ترمذی۔کتاب الصلوۃ) سفر میں وتر اور فجر کی دوسنتوں کے علاوہ باقی سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔سفر میں نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہے۔اگر امام مقیم ہو تو مسافر مقتدی اس کی اتباع میں پوری نماز پڑھے گا اور اگر امام مسافر ہو تو امام دو رکعت پڑھے گا۔اور اس کے مقیم مقتدی کھڑے ہو کر بقیہ رکعتیں پوری کر کے سلام پھیریں گے۔ان بقیہ دورکعتوں میں وہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں گے۔(ابوداؤد۔کتاب الصلوۃ) شہر سے گیارہ میل باہر جانے یا سفر کا ارادہ کر کے اور شہر سے باہر نکلتے ہی قصر نماز پڑھ سکتا ہے۔اگر کسی جگہ پندرہ دن تک یازائد قیام کا ارادہ کر لیا ہوتو نماز قص نہ کرے۔اور اگر نہیں تو نماز قصر کرتا رہے۔جو شخص ملازم یا تاجر ہے اور ملازمت اور تجارت میں دورہ کرتا ہے اس کو نماز قصر جائز نہیں۔77