دعائیہ سیٹ — Page 74
نماز عیدین رمضان کے روزے گزرنے پر یکم شوال کو افطار کرنے اور روزوں کی برکات حاصل کرنے کی توفیق پانے کی خوشی میں عید الفطر اور ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو حج کی برکات میسر آنے کی خوشی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید الاضحیہ منائی جاتی ہے۔ان نمازوں میں نہ اذان ہوتی ہے اور نہ اقامت۔ان دونوں نمازوں کے پڑھنے کا وقت جب سورج بلند ہو۔ہر دو نمازوں کی قرآت بالجبر (بلند آواز سے) پڑھی جاتی ہے۔عید کی نماز با جماعت ہی پڑھی جاتی ہے۔اکیلے جائز نہیں۔نماز عید کی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور تعوذ سے پہلے امام سات تکبیریں بلند آواز سے کہے اور مقتدی آہستہ آواز سے یہ تکبیرات کہیں۔امام اور مقتدی دونوں تکبیرات کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا ئیں اور کھلے چھوڑ دیں۔تکبیرات کے بعد امام اَعُوذُ باللہ اور بسم اللہ پڑھے۔اس کے بعد سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی دوسری سورتوں کا کوئی حصہ بالجبر پڑھ کر پہلی رکعت مکمل کرے۔پھر دوسری رکعت کیلئے اٹھتے ہی پانچ تکبیریں پہلی تکبیرات کی طرح کہے اور پھر یہ رکعت مکمل ہونے پر تشہد اور درود شریف اور مسنون دعاؤں کے بعد سلام پھیرے اس کے بعد امام خطبہ پڑھے۔جمعہ کی طرح عید کے بھی دو خطبے ہوتے ہیں۔74 (ابوداؤد کتاب الصلوة )