دعائیہ سیٹ — Page 75
دونوں عیدوں کی نماز ایک جیسی ہوتی ہے۔عید گاہ کو ایک راستہ سے جانا اور دوسرے سے واپس آنا مسنون ہے۔نماز عید کا اجتماع ایک رنگ میں دینی عظمت کا مظہر ہوتا ہے اس لئے اس میں مرد، عورت اور بچے سبھی شامل ہوتے ہیں۔( ترمذی کتاب الصلوة ) مسائل عیدین اور ان کا حل 1۔رمضان کے روزے گزرنے کے بعد یکم شوال کو عید الفطر ہوتی ہے اور عید الاضحیہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔2 صدقہ فطرانہ قبل از نماز ادا کرنا واجب ہے۔3۔عیدالفطر کے روز عیدگاہ کچھ کھا کر جانا سنت ہے۔4۔دونوں عیدوں کے پڑھنے کا وقت جب سورج بلند ہو جاوے۔5۔ان میں یہ امر مسنون ہیں۔سویرے اٹھنا۔مسواک کرنا۔غسل کرنا۔عمدہ لباس پہننا۔خوشبو لگانا۔عید گاہ ایک راستہ سے جانا۔دوسرے سے واپس آنا۔نماز عید شہر سے باہر پڑھنا۔آتے جاتے یہ کلمات پڑھنا اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله والله اكبر الله أكبر ولله الحمد تکبیر ذوالحجہ کی نو تاریخ کی فجر سے لے کر تیرہ تاریخ کی عصر تک ہر نماز کا پڑھنے والا فرضوں کے سلام پھیرنے کے بعد کم از کم تین بار بلند آواز سے پڑھے۔6 عورتوں کا بھی عید گاہ میں جانا مسنون ہے۔نماز میں شریک ہوں یا علیحدہ رہیں۔75