دعائیہ سیٹ — Page 73
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو دورکعتیں کر کے آٹھ رکعتیں پڑھا کرتے تھے پھر آخر میں تین رکعت وتر پڑھ کر نماز ختم کرتے تھے۔اس نماز کو باجماعت پڑھنا بھی جائز ہے اور اکیلا پڑھنے والا بھی اونچی قرآت پڑھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود اس کی اہمیت یوں بیان فرماتے ہیں: ” ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو رکعت ہی پڑھ لے “ (الحکم۔اپریل 1902ء) نماز تراویح نماز تراویح اصل میں تہجد ہی کی نماز ہے۔صرف رمضان المبارک میں اس کے فائدے کو عام کرنے کے لئے رات کے پہلے حصہ میں یعنی عشاء کی نماز کے معا بعد عام لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس نماز کا زیادہ تر رواج حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوا۔رمضان میں بھی رات کے آخری حصہ میں یہ نماز ادا کرنا افضل ہے۔نماز تراویح میں قرآن مجید سنانے کا طریق بھی صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانے سے چلا آتا ہے۔لیکن قرآن شریف کو مروجہ طریق پر تیز تیز پڑھنا مناسب نہیں جس کو مقتدی یا سامعین سمجھ ہی نہ سکتے ہوں۔تراویح کی نماز آٹھ رکعت ہے۔الله 73