دعائیہ سیٹ — Page 286
لوگوں اور اللہ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لئے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے۔اور اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں: بہت سے لوگ زکوۃ دے دیتے ہیں مگر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ یہ کس کی زکوۃ ہے۔اگر کتے کو ذبح کردیا جاوے یا سور کو ذبح کر ڈالو تو وہ صرف ذبح کرنے سے حلال نہیں ہو جائے گا۔زکوۃ تزکیہ سے نکلی ہے۔مال کو پاک کرو اور پھر اس میں سے زکوۃ دو۔جواس میں سے دیتا ہے اُس کا صدق قائم ہے لیکن جو حلال حرام کی تمیز نہیں کرتا وہ اس کے اصل مفہوم سے دُور پڑا ہوا ہے اس قسم کی غلطیوں سے دست بردار ہونا چاہئے اور ان ارکان کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے تب یہ ارکان نجات دیتے ہیں ور نہ نہیں اور انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے۔یقینا سمجھو کہ فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی انفسی یا آفاقی شریک نہ ٹھہراؤ اور اعمال صالحہ بجالاؤ۔مال سے محبت نہ کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِهَا تُحِبُّونَ (ال عمران : 93) یعنی تم پڑ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ مال خرچ کرو جس کو تم عزیز رکھتے ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اپنا اُسوہ بناؤ۔( ملفوظات جلد پنجم ص 103) 286