دعائیہ سیٹ — Page 287
حج کی حقیقت اور اہمیت 1۔حج کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلِلهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (ال عمران: 98) اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ (اس کے ) گھر کا حج کریں (یعنی) جو بھی اس ( گھر ) تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔2۔حج کرنا اسلام کا پانچواں اور آخری رکن ہے۔3۔مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرنا، صفامر وہ پر دوڑنا اور بعض اور مقامات کی عبادت بجالانے کو حج کرنا کہتے ہیں۔مقامات حج یہ ہیں: بیت اللہ حطیم ، حجر اسود، ملتزم ، رکن یمانی، مطاف، مقام ابراہیم، زمزم،مسجد الحرام ،صفا ومروہ۔مکہ سے باہر کے مقامات یہ ہیں: منی ، عرفات، مزدلفہ، مواقیت، ذوالحلیفہ، جحفہ، ذات العرق، قرن۔منازل ہلمنکم تنعیم حرم۔4۔جو شخص مالدار ہے اور تندرست ہے، حج کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹیں بھی نہیں ہیں یعنی راستے میں امن کی صورت ہے۔ایسے شخص پر حج کرنا فرض ہے۔5۔تمام عمر میں ایک بارحج کرنا فرض ہے، ایک سے زیادہ با نفلی حج کہلاتا ہے۔6۔حج کے لئے جاتے وقت نیک نیت کا ہونا ضروری ہے۔بعض لوگ محض نام 287