دعائیہ سیٹ — Page 285
زکوۃ پورے سرمائے کا چالیسواں حصہ یا اڑھائی فیصد ہے۔جوز یورات کبھی کبھی پہنے میں آتے ہیں ان پر بھی اسی حساب سے زکوۃ دی جاتی ہے۔تاہم سونے چاندی کا جو زیور عورت کے ذاتی استعمال میں آتا ہے اور وہ کبھی کبھی مانگنے غریب عورتوں کو بھی استعمال کے لئے دے دیتی ہے اس پر زکوۃ نہیں۔8۔زکوۃ کا پیسہ محتاج ، غریب، نادار اور مستحق مسلمانوں ، مؤلّفۃ القلوب پر یا دینی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔۔زکوۃ سالانہ ادا کرنے کی میعاد تب سے مقرر کی جائے گی جب سے مال، زیور یا روپیہ موجود ہو۔اگر کسی نے اپنا پیسہ قرض پر دیا ہوا ہے تو اُس پر زکوۃ نہیں دی جاتی، جب تک کہ روپیہ واپس نہ آجائے۔10۔زکوۃ اور صدقہ میں خاص فرق نہیں ہے لیکن صدقہ الگ ہے اور زکوۃ الگ ہے۔سید کے لئے زکوۃ لینا منع ہے لیکن اضطراری حالت میں جائز ہے۔قرآن کریم میں زکوۃ کی تقسیم اس طرح پر لکھی ہے : إِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالعَمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيضَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (سورة التوبه: 60) ترجمہ: صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور اُن ( صدقات ) کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیف قلب کی جارہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چھٹی میں مبتلا 285