دعائیہ سیٹ — Page 284
2۔زکوۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔اس کے معنے مال کا بڑھنا اور مال کو پاک کرنا ہے۔یہ وہ صدقہ ہے جو امیروں سے لے کر غریبوں کو دیا جاتا ہے۔3۔ہر عاقل بالغ صاحب مال جس کے پاس سونا، چاندی، روپیہ، مویشی یا مالِ تجارت ہو۔اس پر زکوۃ فرض ہے۔4۔یادر ہے زکوۃ حلال کمائی کے مال پر فرض ہے اور سالانہ ادا کی جاتی ہے۔اس کی ادائیگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی سچی محبت حقیقی تعلق اور اس کی رضامندی حاصل ہو نیز بخل کی عادت دُور ہو، غریبوں کی تکلیفیں ختم ہوں، مال و متاع کی محبت سرد ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی عادت پختہ ہو۔5۔اللہ تعالی مال دار لوگوں کے متعلق حکم دیتا ہے: خُذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهَّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ ( سورة التوبه : 103) ترجمہ: تو ان کے مالوں میں سے صدقہ قبول کر لیا کر۔اس ذریعہ سے تو انہیں پاک کرے گا۔نیز ان کا تزکیہ کرے گا۔6 - قرضدار پر زکوۃ واجب نہیں، اور نہ رہائشی مکان پر اور نہ روزانہ پہنے والے زیورات پر فرض ہے۔7۔نقدی ،سونا، چاندی اور دوسرے ہر قسم کے سرمائے کے لئے نصاب کا معیار چاندی ہے۔یعنی جس کے پاس باون تولے چھ ماشے چاندی ہو یا اتنا روپیہ یا سونا ہو کہ اس سے اس مقدار میں چاندی خریدی جاسکتی ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔شرح 284