دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 283 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 283

زکوۃ کی اہمیت و فرضیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنا جہاں ایک بہت بڑی نیکی اور بھلائی ہے وہاں یہ ایک مالی عبادت بھی ہے۔انسان کے پاس جو مال ہے وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے اور اس کی امانت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اس امانت میں سے کچھ واپس لینا چاہے اور بندے کو کہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے وہ اس کی راہ میں خرچ کرے تو خوشی اور پورے انشراح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کی عین سعادت اور اللہ تعالیٰ کی برکات کا مورد بنے کا یقینی اور قطعی ذریعہ ہے۔اس کو زکوۃ کہتے ہیں۔مسلمان زکوۃ کو ایک عبادت سمجھ کر خوش دلی سے ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی وجہ سے جذ بہ تشکر اور اس کے فضلوں کی امید کارفرما ہوتی ہے۔1۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ زَكوة تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ( سورة الروم : 40) ترجمہ: اور اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم جو کچھ زکوۃ دیتے ہو تو یہی ہیں وہ لوگ جو (اسے) بڑھانے والے ہیں۔یعنی زکوۃ محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دینی چاہئے ، جو لوگ زکوۃ دیتے ہیں وہ اپنے مال کو کم نہیں کرتے بلکہ بڑھاتے ہیں۔283