دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 276 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 276

که وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَا تِهِمُ سَاهُونَ۔ویل ہے ان نمازیوں کے واسطے جو کہ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔سو سمجھنا چاہئے کہ نماز ایک سوال ہے جو کہ انسان جدائی کے وقت در داور رقت کے ساتھ اپنے خدا کے حضور میں کرتا ہے کہ اس کو لقا اور وصال ہو۔۔۔پس پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔نماز کیا ہے ایک دعا جو درد سوزش حرفت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے۔تاکہ بد خیالات اور بُرے ارا دے دفع ہو جاویں۔اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جاوے۔اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔صلوۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش جلن اور حرقت کا ہونا ضروری ہے۔خدا تعالی دعا کو قبول نہیں کرتا جب تک انسان حالت دعا میں ایک موت تک نہیں پہنچتا۔۔نماز بڑے بھاری درجے کی دعا ہے مگر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔۔۔ہمارا تجربہ ہے کہ خدا کے قریب لے جانے والی کوئی نماز سے زیادہ نہیں۔نماز کے اجزاء اپنے اندر ادب خاکساری اور انکساری کا اظہار رکھتے ہیں۔قیام میں نمازی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ ایک غلام اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے طریق ادب سے کھڑا ہوتا ہے۔رکوع میں انسان انکساری کے ساتھ جھک جاتا ہے۔سب سے بڑا انکسارسجدہ میں ہے جو بہت ہی عاجزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔( نقار پر جلسہ سالانہ 1906 میں 86 276