دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 79 of 173

دُعائے مستجاب — Page 79

دعائے مستجاب۔پہلے یہ دیکھو کہ کیا وہ شخص جس کو میں دُعا کیلئے کہنے لگا ہوں میرے ساتھ ایسا تعلق رکھتا ہے کہ اگر میں اے دُعا کیلئے کہوں تو اس کے دل میں ضرور تحریک ہوگی اور وہ درد کے ساتھ میرے لئے کرے گا اور میری تکلیف اور میرے غم میں شریک ہوگا اگر ایسا ہے تو ایسے شخص کو دُعا کے لئے بے شک کہو ورنہ بغیر اس کے تو ایک عادت ہی ہے جیسا کہ قسمیں کھانے والے ایک ہی سانس میں والله بالله ثم تا اللہ تین چار قسمیں کھا جاتے ہیں۔پس مومن کو ایسی باتوں سے اعراض کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مومنوں کی یہ شان بیان کی ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی مومن اقو باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔پس دُعا کیلئے یہ اصول جو میں نے بیان کیا ہے ہمیشہ مدنظر رکھو کہ ایسے شخص کو دُعا کے لئے کہو جس کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ اس کے دل میں تمہارے لئے واقعی درد ہے۔جیسے بیٹا ماں کو دُعا کیلئے کہے یا بیوی خاوند کو دعا کیلئے کہے۔یا ماں بیٹے کو دعا کیلئے کہے یا باپ بیٹے کو یا بیٹا باپ کو دُعا کیلئے کہے۔یا بھائی بھائی کو کہے یا بہن کو کہے یا بہن بھائی کو کہے۔یہ ایسے رشتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کیلئے درد ہوتا ہے یا ایسا گہرا دوست ہو کہ جس کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دُکھ اور تکلیف میں وہ تمہارے رشتہ داروں کی طرح شامل ہے ورنہ رسمی طور پر دوسرے کو دُعا کیلئے کہنا انسان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔“ ( فرموده ۱۳ نومبر ۱۹۴۵ء بحواله الفضل) 79