دُعائے مستجاب — Page 78
دعائے مستجاب۔لوگوں کو تو ہر ایک شخص کا نام یاد نہیں رہ سکتا جنہیں سینکڑوں آدمی دُعا کیلئے کہنے والے ہوں۔اس کیلئے ایک طریق تو یہ ہے کہ جس وقت کوئی شخص دُعا کیلئے کہے اسی وقت اس کیلئے دُعا کر دی جائے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ مجموعی دُعا نام لیکر یا بغیر نام کے کسی دوسرے وقت میں کر دی جائے۔میں موقع کے مناسب دونوں طریق اختیار کرتا ہوں۔چونکہ سب درخواست دُعا کرنے والوں کے نام یاد نہیں رہ سکتے اس لئے جن کے نام مجھے یاد ہوتے ہیں ان کے نام لیکر اور جن کے نام یاد نہیں ہوتے ان کیلئے مجموعی طور پر دُعا کر دیتا ہوں کہ اے خدا جنہوں نے مجھے دُعا کیلئے کہا ہے اور ان کے نام مجھے یاد نہیں تو انہیں ان کی نیک اغراض اور نیک ارادوں میں کامیاب فرما۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک پوری توجہ اور در دنہ ہودُعا کرنے اور دعا کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور اگر پوری توجہ نہ ہو تو یہ بھی ایک عادت ہی کہلائے گی جیسے بعض لوگوں کو قسمیں کھانے کی عادت ہوتی ہے ہر بات پر خدا کی قسم کھاتے چلے جاتے ہیں۔نہ انہیں کوئی قسم کھانے کیلئے کہتا ہے اور نہ ہی کوئی قاضی یا حاکم بیٹھا ہوتا ہے جو انہیں قسم کھانے کیلئے کہے بلکہ وہ بلا وجہ قسمیں کھاتے چلے جاتے ہیں۔اس طرح قسم کی عظمت اور رعب باقی نہیں رہتا۔اسی لئے بلا وجہ قسم کھانے سے شریعت نے روکا ہے۔جس طرح بلا وجہ قسم کھانے سے قسم کی عظمت مٹ جاتی ہے اسی طرح بطور عادت ہر انسان کو دُعا کیلئے کہنے سے دُعا کی عظمت قائم نہیں رہتی۔ہمیشہ دعا کیلئے کہنے سے 78