دُعائے مستجاب — Page 80
دعائے مستجاب۔حصول مقصد کیلئے عاجزانہ منکسرانہ دعاؤں کی عادت ڈالنا ضروری ہے حضور فرماتے ہیں: وو۔۔۔ہمارا کام خواہ وہ انفرادی ہو یا قومی اسی وقت ہوسکتا ہے جب اس کے پیچھے رُوح کام کر رہی ہو۔خالی لاش اس کام کو نہیں کر سکتی۔زبانی باتیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔پس چاہئے کہ ہماری جماعت دُعا کی طرف توجہ کرے اور اس کی اہمیت کو سمجھے۔جب تک جماعت اس کی اہمیت کو نہ سمجھے گی اس کا کام مکمل نہیں ہوسکتا۔جتنی کمزوری یا کمی ہمارے کام میں ہے اس کی آخر دوہی صورتیں ہیں یا تو یہ عدم توجہ کی وجہ سے ہے یا پھر یہ دل پر زنگ لگ جانے کی وجہ سے ہے۔جسے وہ خود بھی نہیں جانتا کہ یہ کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔خدا تعالیٰ ہی اسے دور کرے تو کرے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ عاجزانہ اور منکسرانہ طور پر اس کے سامنے سجدے میں گرے اور اس سے دُعا کرے۔پس جماعت کے دوستوں کو نماز پڑھنے اور دعائیں کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔۔۔یہ ضروری ہے کہ انسان کے اندر انکسار اور یقین پایا جائے۔جب وہ ان کو پورا کرے گا اور اسے دُعا کا چسکا پڑ جائے گا تو پھر قدرتی طور پر اسے نوافل پڑھنے کا شوق بھی پیدا ہو جائے گا۔پھر رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھنے کی توفیق بھی خدا اسے دے دے گا۔پھر بعض وقت ایسے ہوتے ہیں جو خالی 80