دُعائے مستجاب — Page 42
دعائے مستجاب۔میں نے بتایا کہ بعض دفعہ ظاہری تدابیر مضحکہ خیز نظر آتی ہیں اس سے میری مراد یہ ہے کہ الہی سلسلوں کے افراد کے پاس جو سامان ہوتا ہے وہ نہایت قلیل اور کام نہایت عظیم الشان ہوتا ہے۔ظاہر بین نگاہ میں تدابیر اور سامان بیچ ہوتے ہیں اور کام کے مقابلہ میں ان کی کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔دیکھنے والا ظاہر بین خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ حماقت کی بات کر رہے ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح کہتے ہیں کہ ایک پرندہ رات کو لاتیں آسمان کی طرف کر کے سوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب دوسرے پرندوں نے اس سے دریافت کیا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو اس نے کہا کہ شاید رات کو جب ساری دنیا سوئی ہوئی ہوتی ہے آسمان گر پڑے۔میں لاتیں اس لئے او پر کرتا ہوں کہ اسے سہارا دے کر روک لوں۔تا دنیا نیچے آ کر تباہ نہ ہو جائے۔یہ ایک مثال بنائی گئی ہے۔اس قسم کی مضحکہ خیز صورت کہ جیسی میں نے بیان کی ہے جب کام بہت بڑا ہو طاقت بہت کم ہو اور بوجھ بہت زیادہ اس وقت جو تھوڑی سی طاقت والا بڑا بوجھ اُٹھانے کو تیار ہو جاتا ہے۔دنیا کی نظر میں اس کی یہ حرکت مضحکہ خیز ہوتی ہے لیکن جس وقت کوئی ایسا انسان جس کے پیچھے ایمان، قربانی اور ایثار کی رُوح کام کر رہی ہوا اپنی طاقت سے بہت زیادہ بوجھ اُٹھانے کیلئے آگے بڑھتا ہے تو وہ نظارہ ایک سمجھدار انسان کیلئے رقت انگیز ہوتا ہے۔مضحکہ خیز نہیں ہوتا۔ایک مجنون اور پاگل ، احمق۔اور بے وقوف جب وہی کام کرتا ہے تو وہ مضحکہ خیز ہوتا ہے لیکن جب مومن، 42