دُعائے مستجاب — Page 41
دعائے مستجاب۔نخواستہ ہمیں نا کامی حاصل ہو تو سوائے ان تین باتوں کے کوئی چوتھی بات نہیں ہو سکتی یا تو یہ کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی یا یہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کی اور یا یہ کہ جس سلسلہ کو ہم روحانی سمجھتے تھے وہ روحانی نہیں تھا بلکہ دنیوی تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی نصرت کا کوئی وعدہ نہ تھا۔پس یہ تین ہی پہلو اس کی ناکامی کے ہو سکتے ہیں۔چوتھا کوئی نہیں۔اوّل یہ کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس میں تو ہمارے لئے کسی شک کی گنجائش ہی نہیں۔دوم یہ کہ خدا تعالیٰ اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے والا ہے۔اس میں بھی ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔پس اگر کوئی بات باقی رہ جاتی ہے تو یہی کہ کوتاہی ہم سے ہوئی اور ہماری غلطیوں سے کامیابی میں دیر ہوگئی اور مخالفتوں میں ترقی ہو گئی۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے فرائض کو یاد رکھتے ہوئے ان تمام تدابیر کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی کیلئے مہیا فرمائی ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا ان میں سے بہت بڑی تدبیر دُعا اور انابت الی اللہ کی ہے۔دنیوی سامان اور تدابیر جہاں جا کر رہ جاتی ہیں۔جہاں پہنچ کر وہ بے کار ثابت ہوتی ہیں۔جہاں وہ بعض وقت مضحکہ خیز بن جاتی ہیں وہاں صرف دُعا ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جو آسمان سے فرشتوں کی فوج لے آتا ہے اور زمینی روکوں کو دور کر کے شرارت کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔41