دُعائے مستجاب — Page 43
دعائے مستجاب۔بہادر اور جری مومن خدا تعالیٰ کے نام پر ہر چیز قربان کر دینے کا ارادہ رکھنے والا مومن آگے بڑھتا ہے تو دیکھنے والوں کو ہنسی نہیں آتی بلکہ ان کے دل درد سے پر ہو جاتے ہیں اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔بدر کے موقعہ پر ایک ہزار تجربہ کارسپاہی جن پر عرب کی قوم کو فخر تھا جن پر مکہ کے لوگ ناز کرتے تھے۔جن کو قریش کا قیمتی سرمایہ کہا جاتا تھا۔جو صنادید عرب کہلاتے تھے جو اہل عرب کی بڑی سے بڑی مجلسوں میں مسند پر بیٹھنے والے تھے۔تجربہ کار اور پورے ساز وسامان کے ساتھ اس ارادہ سے آئے کہ محمد صل للہ اسلام اور صحابہ کو آج اُن کے بلند و بالا دعاوی کی وجہ سے پوری طرح سزا دے کر جائیں گے۔جس وقت ان کے مقابلہ میں تین سو تیرہ لوگ جن میں سے بعض تلوار چلانا بھی نہ جانتے تھے کئی ایسے تھے جن کے پاس تلوار میں تھیں ہی نہیں۔جن میں سے اکثروں کے پاس سواریاں بھی نہ تھیں۔کھڑے ہوئے تو ظاہری نگاہ میں ان کا یہ فعل مضحکہ خیز تھا اور کہنے والوں نے کہہ بھی دیا کہ جاؤ اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔تم ہمارے بھائی ہوا اور ہم اپنے بھائیوں کے خون سے زمین کو رنگنا نہیں چاہتے۔لیکن دوسری طرف ان تیز نظر لوگوں نے جو گو اسلام سے محروم تھے مگر ظاہری عقل سے حصہ وافر رکھتے تھے۔اندازہ کر لیا تھا کہ یہ معمولی لوگ نہیں ہیں۔اہل عرب نے اپنے ایک تجربہ کار جرنیل کو اسلامی سپاہ کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا۔اس نے واپس آکران کو جو جواب دیا وہ بتاتا ہے کہ وہ شخص بہت گہری نظر والا تھا۔43