دُعائے مستجاب — Page 31
دعائے مستجاب۔جہاز بھی ہوں لیکن وہ صندوقوں میں بند ہوں اور ان کو استعمال میں نہ لایا جائے تو ان کا کیا فائدہ۔اسی طرح دُعا گو ایک بہت ہی زبر دست ہتھیار ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ مانگی جائے۔جس طرح تلوار ، بندوق ، توپ وغیرہ ہتھیاروں کیلئے ضروری ہے کہ ان کو استعمال کیا جائے جس طرح ہم اس وقت مفید ہو سکتے ہیں جب وہ دشمن پر پھینکے جائیں۔اسی طرح دُعا بھی اسی وقت کام دے سکتی ہے جب وہ مانگی جائے۔صرف منہ سے کہتے رہنا کہ ہمارے پاس دُعا کا ہتھیار ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ رات دن دُعاؤں میں لگے رہیں۔یہ دن بہت نازک ہیں۔ایسے نازک کہ اس سے زیادہ نازک دن دنیا پر پہلے کبھی نہیں آئے اور پھر ہمارے جیسی نہتی اور کمزور قوم کیلئے تو یہ بہت ہی نازک ہیں۔ایک جہاز بھی آکر اگر بم پھینکے تو ہم تو اس کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔پس یہ ایسے خطر ناک حالات ہیں کہ اب بھی جو شخص اس واحد ہتھیار کو جو ہمارے پاس ہے استعمال نہ کرے اس سے زیادہ غافل کون ہوسکتا ہے۔پس دن رات یہی فکر رہنا چاہئے۔دل پر ایسا بوجھ ہو کہ اضطرار کی حالت طاری ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہماری دُعاؤں کو سن لے مگر میں نے دیکھا ہے کہ غفلت اور سنگدلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بعض لوگ ایسے مزے لے لے کر جنگ کی خبریں بیان کرتے ہیں کہ فلاں شہر پر یوں حملہ ہوا اور 31