دُعائے مستجاب — Page 32
دعائے مستجاب۔فلاں جگہ لوگ اس طرح مارے گئے۔ان کو سوچنا چاہئے کہ جو مارے جاتے ہیں وہ بھی کسی کے باپ ہیں، کسی کے بیٹے ہیں اور کسی کے بھائی ہیں۔کوئی اپنے پیچھے روتی ہوئی بہو کوئی ماں اور کوئی یتیم بچے چھوڑ رہا ہے۔ان حالات میں ان خبروں کو پڑھتے ہوئے تو یوں محسوس ہونا چاہئے کہ گویا کسی قریبی رشتہ دار کی لاش پر انسان کھڑا ہو۔یہ گریہ وزاری کرنے کے دن ہیں۔ایسے زندہ خدا کی موجودگی میں ہم ان بلاؤں سے بچنے کی کوشش نہ کریں تو ہم سے زیادہ غافل کون ہوسکتا ہے۔دنیا کو اپنے اسباب اور جنگ کے سامانوں یعنی تو پوں ، مشین گنوں اور ہوائی جہازوں پر بھروسہ ہے مگر ہمارا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے وہ لوگ ان سامانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔انگلستان کیا اور جرمنی کیا جاپان کیا اور امریکہ کیا۔سب مرد اور عورتیں دن اور رات بم، تو ہیں، ہوائی جہاز اور دوسرے سامان جنگ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بنانے میں لگ جائیں جس طرح وہ لوگ دن رات چھوٹے بھی اور بڑے بھی یہ سامان بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بنانے میں لگ جائیں جس طرح وہ لوگ دن رات چھوٹے بھی اور بڑے بھی یہ سامان بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح ہم بھی سب کے سب رات اور دن خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگنے میں لگ جائیں کیونکہ جب تک مقابلہ کے سامان ویسے ہی زبر دست نہ ہوں کا میابی نہیں ہوسکتی۔ہر دُعا 32