دُعائے مستجاب — Page 159
دعائے مستجاب۔وارنٹ جاری کرائیں گے جن سے دنیا کے بادشاہ بھی گرفتار کئے جاسکتے ہیں۔ہم نے ایک لمبے عرصہ تک ان باتوں کوٹنا اور صبر کیا۔دیکھا اور خاموش رہے۔ہم نے التجائیں کیں مگر انہیں ٹھکرا دیا گیا۔ہم نے عرضیں کیں مگر ان پر کان نہیں دھرے گئے۔۔ہم کبھی چپ نہیں ہوں گے اور جو ہم نہ کر سکیں گے وہ خدا تعالیٰ کرے گا۔جہاں ہمارے ہاتھ روکے جائیں گے وہاں فرشتے کام کریں گے۔زمین پر امن قائم نہیں ہو گا جب تک ہمارے دلوں میں امن قائم نہیں ہوتا۔آسمان تیراندازی بند نہیں کرے گا جب تک ہمارے قلوب پر ان تیروں کا چلا یا جا نا ختم نہیں ہوگا۔پس آؤ کہ۔۔مل کر بھی اور انفرادی طور پر بھی ایسی دعائیں کی جائیں جو عرش الہی کو ہلا دیں تا خدا تعالیٰ اپنی فوجوں کو حکم دے۔۔۔کہ جاؤ دنیا کے پردہ پر میرے کچھ مظلوم بندے ہیں انہیں کمزور سمجھ کر کچھ طاقتور حکام اور اکثریت کے نمائندے ان پر ظلم کر رہے ہیں ان کے دل غم سے بھرے ہوئے ہیں اور آنکھیں اشکوں سے پر ہیں۔وہ تھوڑے ہیں اور بیکس دنیا کے پردہ پر کوئی ان کا والی نہیں۔ہر قوم ان سے اس لئے دشمنی کر رہی ہے کہ انہوں نے میری آواز کیوں سُنی اور میری پکار پر لبیک کیوں کہا۔میں ان کی آواز سنوں گا اور ان کی پکار کو بے کار نہیں جانے دوں گا۔بے شک دنیا داروں کی نگاہ میں وہ بے کس ہیں مگر انہیں کیا معلوم کہ میں ان کا والی ہوں اور میں ان کا حامی ہوں۔تم جاؤ اور دنیا سے ان کے مخالفوں کو مٹا دو۔خواہ دلوں میں تبدیلی پیدا کر کے اور 159