دُعائے مستجاب — Page 158
دعائے مستجاب۔مگر اس سے ان باتوں کا ازالہ نہیں ہو جاتا۔بلاشبہ ہم میں سے کمزوروں کی اس سے تسلی بھی ہو جائے گی مگر حقیقی روحانیت سے مس رکھنے والے ان باتوں سے تسلی نہیں پاسکتے۔جب تک وہ زبانیں کھلی ہیں جن پر یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں۔جب تک وہ ہاتھ حرکت کرتے ہیں جو ایسی باتیں لکھتے ہیں۔جب تک وہ دماغ موجود ہیں جن میں یہ خیالات دوڑتے ہیں۔جب تک وہ دل باقی ہیں جن میں ایسے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور جب تک دوبارہ ان باتوں کے کہے یا لکھے جانے کا امکان ہے۔اس وقت تک کوئی احمدی چین کا سانس نہیں لے سکتا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کا ہٹانا ہمارے اختیار میں نہیں۔یہ خدا کے اختیار میں ہے۔اور وہ دونوں طرح ان باتوں کو دُور کر سکتا ہے۔وہی دل جو آج نفرت سے ہے بھرے ہوئے ہیں۔ان میں محبت کے جذبات پیدا کر کے بھی ہٹا سکتا۔اور ایسے لوگوں کو تباہ اور ان کے گھروں کو ویران کر کے بھی ہٹا سکتا ہے۔حکومت ہمارے ہاتھوں کو پکڑ سکتی ہے مگر وہ خدا کے ہاتھوں کو کیسے پکڑ سکتی ہے۔جن ہاتھوں میں وہ خود بھی ایک قیدی کی طرح ہے۔ہماری فوجیں زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہیں۔حکومت وہ تو ہیں بنواتی ہے جن کے گولے پندرہ بیس میل تک مار کر سکتے ہیں مگر ہم تو ہیں تیار کریں گے جو عرش سے گولہ پھینکتی ہیں اور فرش پر رہنے والوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہیں۔گورنمنٹ کی گرفت صرف ان لوگوں تک ہے جو اس کی حکومت کے ماتحت ہیں مگر ہم وہ 158