دُعائے مستجاب — Page 103
دعائے مستجاب۔ہے نہ وہ چیز اس کے عشق کو مکمل کرتی ہے۔اگر یہی خیال آتا رہے کہ میں فلاں وقت ہی ذکر کروں گا، آگے پیچھے نہیں کروں گا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اپنے اوقات کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کی یاد میں صرف کرنے کیلئے تیار نہیں۔وہ اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ وہ مقررہ وقت آئے تو وہ ذکر کرے حالانکہ مومن وہی ہے جو ہر حالت میں خدا تعالیٰ کو یا در کھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی بزرگ کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ دست در کار و دل بایار یعنی انسان کے ہاتھ کام میں مشغول ہونے چاہئیں اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔اسی طرح ایک پنجابی صوفی کے متعلق مشہور ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ میں کتنی دفعہ اللہ کا ذکر کیا کروں۔انہوں نے فرمایا: یار داناں لینا تے گن گن کے یعنی محبوب کا نام لینا اور پھر گن گن کر۔تو اصل ذکر وہی ہے جو ان گنت ہومگر ایک وقت معین کرنے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اس وقت اپنے محبوب کے لئے اور کاموں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے۔اور چونکہ یہ دونوں حالتیں ضروری ہیں اس لئے صحیح طریق یہی ہے کہ معین تعداد میں ان گنت ملا دیا جائے پھر وہ سارے کا سارا ذکر ان گنت ہو جائے گا۔“ الفضل ۲۲ مئی ۱۹۶۰ء) قرب الہی کے حصول کا ایک آزمودہ اور مؤثر طریق بیان کرتے ہوئے حضور 103