دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 102 of 173

دُعائے مستجاب — Page 102

دعائے مستجاب۔رہے۔تعداد کے لحاظ سے بے شک ایک خاص وقت بھی مقرر کیا جا سکتا ہے مگر محبت کے لحاظ سے وقت کی تعیین کا خیال غلط ہوتا ہے کیونکہ عشق میں انسان کی دونوں حالتیں ہوتی ہیں۔عشق کی ایک حالت تو وہ ہوتی ہے جب انسان اور تمام کاموں سے فارغ ہو کر اپنے دوست سے باتیں کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور عشق کی دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہ اور کاموں میں لگا ر ہے اس کا دل اپنے محبوب کی طرف ہی ہوتا ہے۔پس عشق دونوں باتوں کا تقاضا کرنا ہے۔عشق یہ بھی چاہتا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کے لئے اور کاموں سے فارغ ہو جائے اور عشق یہ بھی چاہتا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کا ہر وقت ذکر کرتا رہے۔پس چونکہ یہ دونوں باتیں ضروری ہیں اس لئے خواہ کوئی شخص ایک معین وقت میں ایک ہزار دفعہ درود پڑھ لے اور ہزار دفعہ تسبیح کرلے پھر بھی جب وہ دوسرے اوقات میں بغیر گنتی کے اپنے محبوب کا ذکر کرے گا تو ہزار جمع ان گنت ہو کر تو سب کا سب ذکر بے حساب بن جائے گا۔یا فرض کرو ایک شخص ۳۳، ۳۳ دفعہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہتا ہے اور ۳۴ دفعہ اللہ اکبر کہتا ہے اور پھر سارا دن بغیر گنے کے مختلف مواقع پر کبھی سبحان اللہ کہہ دیتا ہے کبھی احمد للہ کہ دیتاہے اور کبھی اللہ اکبر کہ دیتا ہے تو گفتی شدہ تسبیح وتحمید و کمبیر میں ان گنت تسبیح وتحمید و کبیر جب مل جائے گی تو سب تسبیح و تحمید ان گنت ہو جائے گی۔اس طرح یہ دونوں چیزیں مل کر ایک مومن کے عشق کو مکمل کرتی ہیں ورنہ اکیلی نہ یہ چیز اس کے عشق کو مکمل کرتی 102