دُعائے مستجاب — Page 94
دعائے مستجاب۔میں کچھ کر لیں تو ہم انہیں محروم نہیں کریں گے کیونکہ ہمارا یہ بھی قانون ہے کہ : كُلا نُسِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْفُورًا ( بنی اسرائیل : ۲۱) مگر ان کی روحانیت برباد ہو جائے گی۔پس اگر کوئی شخص یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں میں جوتی بھی اپنی ہمت اور طاقت سے پہن سکتا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی مدد کی اسے ضرورت نہیں ہے تو اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔قبولیت دعا کے متعلق ایک نہایت ضروری سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ” میں نے جو یہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ سو کی سو دعائیں ہی سنتا ہے اس سے بعض لوگوں کو خیال پیدا ہوگا کہ خدا تعالیٰ کہاں ساری دُعائیں سنتا ہے۔اس سوال پر میں ابھی روشنی ڈالوں گا لیکن اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دُعا میں جہاں ابتداء میں یہ ضروری ہے کہ انسان کو یہ یقین ہو کہ خدا کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور یہ بھی یقین ہو کہ وہ میری ہر ایک دُعا ضرور سن لے گا۔وہاں انتہا کیلئے بھی یہ دوضروری شرطیں ہیں کہ اوّل تضرع ہو دوم اعتماد ہو۔تضرع ہو اس احساس پر کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا بے بہا خزانہ ملا ہوا ہے کہ اس سے جو چاہوں مانگ لوں اور اعتماد ہو اس امر پر کہ جو دُعا کی گئی وہ قبول ہو چکی۔اگر کسی دُعا کا نتیجہ ہمارے منشاء کے مطابق 94