دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 95 of 173

دُعائے مستجاب — Page 95

دعائے مستجاب۔لا نہ نکلے تو بھی یہی یقین ہو کہ وہ دُعاسنی گئی ہے۔دعاسنی ہی جب جاتی جب انسان اس درجہ پر پہنچ جائے اور پھر اس کی ہر ایک دعاسنی جاتی ہے۔ایک شخص جس کا بیٹا بیمار ہو وہ دُعا کرتا ہے کہ الہی میرا بیٹا بچ جائے۔وہ دعائیں کرتا کرتا نڈھال ہو جاتا ہے کہ فرشتہ اترتا ہے اور اس کے بیٹے کی روح قبض کر کے لے جاتا ہے اس کے بعد وہ اپنے بیٹے کی لاش اُٹھاتا ہے اور اُسے قبر میں دفن کر آتا ہے مگر باوجود اس کے اسے یقین ہونا چاہئے کہ اس کی دعاسنی گئی۔اگر اسے یہ یقین نہیں تو پھر اس کی کوئی دعا نہیں سنی جائے گی اس لئے کہ خدا تعالی نے بندہ کو یہ سکھایا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور جب خدا تعالیٰ اپنے ہر فعل میں تعریف کا مستحق ہے تو یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس نے کسی انسان پر ظلم کیا ہے۔اس موقعہ پر میں ایک مثال سناتا ہوں۔رام پور کے ایک سابق نواب صاحب تھے جو چاچڑاں والے بزرگ خواجہ غلام فرید صاحب کی مجلس میں بیٹھے تھے۔باتوں باتوں میں لوگوں نے یہ ذکر شروع کر دیا کہ آتھم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔نواب صاحب نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔اس پر خواجہ غلام فرید صاحب جوش میں آگئے اور انہوں نے کہا کہ اندھا ہے جو یہ کہتا ہے کہ آتھم کے متعلق حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی میں تو اس کی لاش دیکھ رہا ہوں۔95