دُعائے مستجاب — Page 139
دعائے مستجاب۔کی خدمت میں خط یا تار بھجواتا۔ڈاکٹر مایوس ہو چکے تھے اور میں قریب المرگ تھا آخر خدا تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو سنا اور مجھے اچھا کر دیا۔میں ان دنوں انکی سینڈیٹوریم میں ہوں۔صبح و شام چار فرلانگ شہلاتا ہوں۔وزن پہلے سے کچھ زیادہ ہے۔جراثیم کم ہوتے جارہے ہیں۔امتحان کا نتیجہ نکلا اور میں جس نے مہینوں علالت کے سبب کتاب نہ دیکھی تھی انگلش آنرز میں اپنے کالج میں فرسٹ آیا اور ساری یونیورسٹی میں آنرز میں سوم۔تحدیث نعمت کے طور پر میں احباب کو یہ خبر سناتا ہوں کہ مجھے پٹنہ کالج کی طرف سے اول ہونے کے انعام میں سو ۱۰۰ روپے کی کتابیں ملیں۔نیز پٹنہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں یہ اعلان ہوا کہ میں یونیورسٹی بھر میں اُردو میں فرسٹ ہوں اور اس کے انعام میں ایک طلائی تمغہ یونیورسٹی نے دیا۔الحمد لله سہ سے حضرت خلیفہ المسیح کی دعاؤں کی معجز نمائی۔مادی دنیا کی بے بسی مجھ پر بین طور پر ظاہر ہوگئی اور میں نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کس طرح مردے زندہ کرتا ہے۔پیارے امام اور احباب سے عرض ہے کہ میری کامل صحت کیلئے دعافرما ئیں۔نیز اس بات کی کہ میراعلم اور میری بقیہ عمر احمدیت کی خدمت میں صرف ہو۔اللھم آمین۔(سیداختر احمد -احمدی- بی اے آنرز) الفضل ۸ جنوری ۱۹۳۵ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے سعید اختر احمد صاحب اور بیوی نے لمبی عمر پائی تعلیمی وادبی 139