دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 108 of 173

دُعائے مستجاب — Page 108

فرماتے ہیں: دعائے مستجاب۔یہ ایسا وقت ہے کہ اپنے جذبات کو دبانا چاہئے اور تمام طاقت ملک کی حفاظت کی تدابیر پر صرف کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں کہ زمین و آسمان بل جائیں اگر دوسرے لوگ اپنے فرض سے غافل ہیں تو کم سے کم ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگی رہے۔رسول کریم سلیم نے فرمایا ہے کہ یتیم کے دل سے نکلی ہوئی دُعا عرش الہی کو ہلا دیتی ہے اور ہم سے زیادہ یتیم آج کون ہے جن کے پیچھے ساری دنیا پڑی ہوئی ہے۔ہم بھی اگر دعا کریں تو عرشِ الہی ضرور ہلے گا مگر شرط یہی ہے کہ دُعا دل سے نکلی ہوئی ہو اور ہم دُعا کرنا جانتے ہوں۔اناڑی کی طرح نہ ہوں کیونکہ اناڑی جب ہتھیار لے کر کھڑا ہو تو دوسروں کو مارنے کی بجائے اپنے آپ کو زخمی کر لیتا ہے۔پس دُعا بھی ایک فن ہے اور اس کے مطابق دُعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات ہیں اور انسان کی ضرورت جس صفت کے متعلق ہو اسی کا نام لیکر دُعا کرنی چاہئے۔جو شخص اس طرح دُعا مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔۔۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو صحیح طور پر سمجھیں اور پھر دعائیں کریں اور اخلاص سے دعائیں کریں۔“ (الفضل یکم جون ۱۹۴۱ء) 108