دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 109 of 173

دُعائے مستجاب — Page 109

دعائے مستجاب۔اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہ دُعا پگھل جانے اور تذلل اور انکسارکا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے۔حضور فرماتے ہیں: دعا اس امر کا نام نہیں کہ انسان صرف منہ سے ایک بات کہ دے اور سمجھ لے کہ دُعا ہوگئی۔دُعا اللہ تعالیٰ کے حضور پگھل جانے کا نام ہے۔دُعا ایک موت اختیار کرنے کا نام ہے دعا تذلل اور انکسار کا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے جو شخص محض رسمی طور پر منہ سے چند الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور تذلیل اور انکسار کی حالت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی جس کا دل اور دماغ اور جسم کا ہر ذرہ دعا کے وقت محبت کی بجلیوں سے تھر تھر انہیں رہا ہوتا ، وہ دُعا سے تمسخر کرتا ہے وہ اپنا وقت ضائع کر کے خدا تعالیٰ کا غضب مول لیتا ہے۔پس ایسی دعامت کرو جو تمہارے گلے سے نکل رہی ہو اور تمہارے اندراس کے مقابل پر کوئی کیفیت پیدا نہ ہو۔وہ دُعا نہیں بلکہ الہی قہر بھڑ کانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔جب تم دُعا کرو تو تمہارا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کے جلال کا شاہد ہو۔تمہارے دماغ کا ہر گوشہ اس کی قدرتوں کو منعکس کر رہا ہو اور تمہارے دل کی ہر کیفیت اس کی عنایتوں کا لطف اُٹھا رہی ہو۔تب اور صرف تب تم دُعا کرنے والے سمجھے جاسکتے ہو۔“ تفسیر کبیر سورۃ الفرقان صفحه ۱۸۹) دعا کی قبولیت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان مجسم سوال بن جائے حضور فرماتے ہیں: 109