حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 14
ارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔۔ابتدائی حالات مکان میں ٹھہراتے تھے اور اس طرح ہمیں بھی حضور علیہ السلام کے مکان میں رہنے کا موقع ملتا۔مجھے یاد ہے کہ انہیں ایام میں جب کہ ہمیں حضور علیہ السلام کے گھر میں رہنے کا موقع ملا۔ایک دفعہ جب کہ گرمی کے دن تھے ہمیں اطلاع پہنچی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بحالت غشی میں ہیں اور نبضیں کمزور ہوگئی ہیں۔اور حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور دیگر ڈاکٹر حضور علیہ السلام کے پاس ہیں۔میں یہ سن کر اپنے اس حصہ مکان سے جہاں ہم رہتے تھے گھر کے اُس حصہ میں آیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نشی کی حالت میں تھے۔اندر جا کر دیکھتا ہوں کہ حضور علیہ السلام نے لحاف اوڑھا ہوا ہے اور حضرت خلیفہ ای اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) حضور علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہیں۔دو تین اور شخص بھی وہاں تھے مگر مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ کون تھے۔حضور کے پاؤں دبائے جارہے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور علیہ السلام ہوش میں آئے اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے ( اس الہام کے اصل الفاظ مجھے یاد نہیں) لیکن اس کا مفہوم یہ تھا کہ ہیضہ پھوٹے گا۔الفضل قادیان ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ صفحه ۴، نیز خودنوشت سوانح حیات ولی اللہ شاہ صفحہ ۵۸) مینارہ مسیح قادیان اور دیگر مالی تحریکات میں شمولیت حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب اور آپ کی اہلیہ حضرت سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ (اللہ ان سے راضی ہو ) کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ مینارہ اسیح قایان کی تعمیر میں چندہ دہندگان کے اسماء میں آپ کا اسم گرامی ۱۲۷ ویں نمبر پر کندہ ہے۔احمدیہ جنتری قادیان ۱۹۳۷ ء - صفحہ ۳۸_۳۹) بیعت کے بعد شاذ ہی کوئی ایسی مالی تحریک ہو جس میں آپ نے حصہ نہ لیا ہو۔۱۹۰۵ء میں جب کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا۔آپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔چنانچہ تحریک عید فنڈ ، شفا خانہ فنڈ اور قربانی فنڈ میں آپ کا نام اخبار بدر قادیان ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء) شامل ہے۔۱۴