حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 195 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 195

نشاہ صاحب باب ہفتم۔۔يَا بَنِی ! یہ تفرقہ کا موش ہمیشہ اوّل اوّل مستورات کے خیالات کی پیروی اور اُن کے عندیہ کی اتباع کرنے سے تمہارے اندر داخل ہوگا۔پھر وہ ترقی کرتے کرتے اپنے حقیقی بھائیوں اور بہنوں وغیرہ اقرباء کی محبت اور صلہ رحمی اور اتحادِ با ہمی و ہمدردی کے پار چات گستر کتر کرستیا ناس کر دے گا۔اپنی اپنی بیویوں کی شکایات توجہ سے سنو۔مگر خوب تحقیق کر کے اگر وہ عدل و انصاف و راستی پر مبنی ہوں تو عمل کرو۔ورنہ تر از روئے عقل اور قوت فیصلہ سے وزن کرنے پر اگر وہ غلط ثابت ہوں۔تو اُن کو فورا رڈی کی طرح پھینکو۔بلکہ ایسے معاملات میں بھی شوری مقرر کر کے اپنے امیر خاندان کے ذریعہ سے تسلی کرا کر پھر اس پر کار بند رہو۔ورنہ اگر تم نے صرف اپنی اپنی بیویوں کی محبت اور لحاظ و پاسداری کو مد نظر رکھا تو اس میں پھر خیر نہیں ہے۔میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ مستورات کی بات ہی نہ سنو۔اور ان کے واویلا کی کچھ پرواہ نہ کرو نہیں ہرگز نہیں۔تم ان سے محبت و ترحم اور حسن سلوک و معاشرت میں شریفانہ برتاؤ کرو۔مگر ان کو خانگی اختلافات اور شکایات میں حکم و عدل و امیر ہرگز نہ بناؤ۔جب تک مجلس شوریٰ سے اور شہادت صادقہ سے فیصلہ نہ ہو، عمل نہ کرو۔اور ایسے بھی نہ ہو جاؤ کہ وہ تمہاری ناک میں نکیل ڈال کر بندر اور ریچھ کی طرح تم کو نچاتی پھریں اور تم اپنی عقل سے معطل اور مشورہ با ہمی سے بکلی غافل رہو۔والعیاذ باللہ تعالیٰ يَا بَنِي ! حتی الوسع اپنے کنبہ اور کفو خاندان سے تم اپنی اور اپنے بچوں کی شادی کیا کرو۔اپنے کفو کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں پر ترجیح دی ہے بشرطیکہ وہ صالح و دیندار ہوں۔اگر ایسا کرو گے تو تم ان کو سکھلا سکتے ہو کیونکہ کفو اور اقرباء میں بہ سبب تعلق خون فطرتی محبت و جوش ہوتا ہے۔اور یہ بات غیر میں ناممکن ہے۔الا ماشاء اللہ خصوصاً جب کہ غیر متقی و طالح ہو۔دیکھو میرے اور میری دوسری اولاد کے ساتھ اینیڈ یا کیتھلین * کوکس طرح خالص ہمدردی یا محبت خونی اقرباء والی ہوسکتی ہے۔دین *Enaid حضرت ڈاکٹر سید ب اللہ شاہ صاحب جب کہ Catheline محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ کا نام ہے۔ہر دو حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی غیر ملکی بہو یں تھیں۔مرتب ۱۹۷