حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 194
ناہ صاحب باب ہفتم۔۔بھی بھروسہ کرنا کفر ہی نہیں بلکہ شرک ہے۔اور ایک قسم کی بت پرستی ہے۔سچ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اور یہ قول ربی بالکل حق ہے۔اَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ ـ (سورة الفرقان :۴۴) الحمدللہ کہ مرنے سے قبل یہ بات سمجھ آ گئی ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر استقامت اور دوام کی بخشے۔آمین ثم آمین یابی! اگر تم اپنا انتظام خانگی درست اور با امن رکھنا اور بہشتی نموند اور بہشتی زندگی سے گزارا کرنا چاہتے ہو، تو اس عالم فانی کے آرام کیلئے اپنے کنبہ اور خاندان میں ایک اپنا امام اور سردار اور امیر بطور حکم ہمیشہ مقرر کر لیا کرو۔بشرطیکہ وہ قابل اور سب سے متقی اور دانا اور قوت فیصلہ اور ہمدردی میں سب سے بڑھ کر اور اعلیٰ قابلیت رکھتا ہو۔اور اس کے لئے تم میں اول حق تمہارے بڑے بھائی کا ہے۔اور اگر اُس میں یہ قابلیت نہ ہو تو پھر دوسرے بھائیوں سے جو قابل و عالم، فاضل، متقی اور دانا ہو اس کو اپنے خانگی امور و تنازعات میں حکم و عدل کی طرح سمجھو۔اور سب بھائی مل کر ایک مجلس شوری مقرر کر کے مختلف فیہا معاملات کا فیصلہ کر لیا کرو۔اگر ایسا کرو گے۔تو تمہارا خاندان اور کنبہ بہشتی زندگی بسر کرے گا۔اور تمہارا رعب غیر رشتہ داروں وغیرہ سب کے قائم رہے گا۔ورنہ ذلت وخسران دنیا و دین میں ہوگی۔پس ایسے امیر کی تم سب تابعداری اور اطاعت محبت اور اخلاص سے مومنانہ طرز پر نہ منافقانہ اور نہ کسی پالیسی کی بناء پر ) کرو اور ایسے حگم اور امیر کا شکریہ ادا کرتے رہو تم کامیاب ہو۔يَا بَنِی ! تفرقہ سے اور شقاق سے ہمیشہ بچتے رہو۔اور ہر وقت اس تلاش میں رہو کہ کہیں تفرقہ کا موش تمہارے باہمی اتحاد اور ہمدردی اور محبت و صلح کے انبار و غلہ وذخیرہ کی کوٹھری میں داخل نہ ہو جاوے۔ورنہ تمہارے اتفاق ، اعمال صالحہ کے ذخیرہ کو یکدم ویران کر دے گا اور پھر تم افسوس کرو گے۔وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ (سورة الانفال: ٤٧) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا۔(سورة آل عمران : ۱۰۴) کا حکم الہی ایک آرسنک (یعنی سنکھیا ہے ) اس کی گولیوں سے ایسے موش کو ہلاک کرتے رہو۔ورنہ پھر بہت مشکل ہوگی۔۱۹۶