حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 196 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 196

ارشاہ صاحب باب ہفتم۔گو ہم سب مر جاویں تو ان کو کیا۔مگر اپنے کفو میں گود شمنی بھی ہو۔پھر بھی بوقت مصیبت اور رنج وموت فطرتی در داور غم ہو گا۔یا بنی ؟ تم اپنی اولاد کوعلم دین سکھلا ؤ اور ان میں خادمِ دین اور (مربی) دین ہونے کی قابلیت پیدا کرو۔نرے دُنیاوی کمالات کے حصول پر اُن کی عمر ضائع نہ کرو۔البتہ اگر دنیاوی تعلیم کا کمال خادم دین اور ( دعوة ) دین ہونے کی خاطر سے ہو، تو یہ جائز ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبرا) بَنِی چندہ خاص و چندہ عام کی ادائیگی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی دیگر ضروریات پورا کرنے کو فرض اور ضروری سمجھو۔خود بھوکے پیاسے ننگے رہ کر بھی سلسلہ کی اہم ضروریات کو پورا کرو۔اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اپنی اولاد کو بھی ان امور کی پابندی کا عادی بناؤ تاکید ہے۔يَا بَنِی ! وصیتیں اور نصائح اور بھی بہت ہیں مگر یہ تحر میراب طول پکڑ گئی ہے۔شاید تم میں سے بعض میری نازک اولاد کے دماغ انہیں گورکھ دھندا سمجھ کر پریشان خاطر ہوں اس لئے اب میں چند ضروری وصایا پر اس اپنے آرزو نامہ کو ختم کرتا ہوں۔اگر زندگی نے وفادی تو علیحدہ سوانح عمری تمہاری والدہ مرحومہ میں بقایا وصایا و ( ادعیہ ) مسیح موعود علیہ السلام و ادعیہ قرآن شریف میں بفضلہ تعالیٰ مفصل ذکر کروں گا۔ورنہ اگر مشیت الہی کے ماتحت یہ خواہش نامکمل رہی تو میرے سب سے بڑے فرزند عالم فاضل کو اگر خدا تعالیٰ توفیق دیوے تو وہ اس میری آرزو کو پورا کریں یا اور کوئی اولاد میں سے جس کو توفیق ہو۔آمدم برسرِ مطلب اوّل: يَابَنِی! اگر میری موت کے بعد میرے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو تم سب مل کر با توفیق اولا د جس قدر جلدی ممکن ہو قرضہ ادا کرنا ہوگا۔* دوم میری طرف سے اور اپنی والدہ مرحومہ کی طرف سے ایک ایک حج *الحمد للہ آپ کے سب قرض آپ کی زندگی میں ہی ادا ہو گئے۔( زین العابدین ولی اللہ ) ۱۹۸