حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 130 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 130

ناہ صاحب ۱۹۰۷ ء سے ۱۹۱۷ ء تک کا عرصہ باب چہارم حضرت ام طاہر عزیز مبارک احمد فوت ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب کی رخصت ختم ہوگئی وہ بھی واپس اپنی ملازمت پر رعیہ ضلع سیالکوٹ (موجودہ ضلع نارووال ) چلے گئے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب اور ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اس وقت سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔دونوں میرے دوست تھے۔مگر ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) عام دوستوں سے زیادہ تھے۔ہم یک جان دو قالب تھے۔مگر اس وقت بھی وہم بھی نہ آتا تھا کہ ان کی بہن پھر کبھی ہمارے گھر میں آئے گی۔ان کی دوستی خود ان کی وجہ سے تھی۔اس کا باعث یہ نہ تھا کہ ان کی ایک بہن ہمارے ایک بھائی سے چند دن کے لئے بیاہی گئی تھی۔دن کے بعد دن اور سالوں کے بعد سال گزرگئے اور مریم کا نام بھی ہمارے دماغوں سے مٹ گیا۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی وفات کے بعد ایک دن شاید ۱۹۱۷ ء یا ۱۹۱۸ء تھا کہ میں امتہ الکئی مرحومہ کے گھر میں بیت الخلا سے نکل کر کمرہ کی طرف آ رہا تھا۔راستہ میں ایک چھوٹا سا صحن تھا اس کے ایک طرف لکڑی کی دیوار تھی۔میں نے دیکھا ایک دبلی پتلی سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی مجھے دیکھ کر اس لکڑی کی دیوار سے چمٹ گئی اور پوچھنے پر امتہ الھی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم ہے۔میں نے کہا اس نے پردہ کیا تھا اور اگر سامنے بھی ہوتی تو میں اسے کب پیچان سکتا تھا۔۱۹۰۷ء کے بعد اس طرح مریم دوبارہ میرے ذہن میں آئی۔اب میں نے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا مریم کی شادی کہیں تجویز ہے۔جس کا جواب مجھے یہ ملا کہ ہم سادات ہیں ہمارے ہاں بیوہ کا نکاح نہیں ہوتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں کسی جگہ شادی ہوگئی تو کر دیں گے ورنہ لڑکی اسی طرح بیٹھی رہے گی۔میرے لئے یہ سخت صدمہ کی بات تھی۔میں نے بہت کوشش کی کہ مریم کا نکاح کسی اور جگہ ہو جائے مگر نا کامی کے سوا کچھ نتیجہ نہ نکلا۔آخر میں نے مختلف ذرائع سے اپنے بھائیوں میں تحریک کی کہ اس طرح اس کی عمر ضائع نہ ہونی چاہیے ان میں سے کوئی مریم سے نکاح کرلے۔لیکن اس کا جواب بھی نفی میں ملا۔تب میں نے اس وجہ سے کہ ان کے دو بھائیوں سید حبیب اللہ شاہ اور سید محمود اللہ شاہ صاحب سے مجھے بہت محبت تھی۔میں نے