حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 131 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 131

ارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر فیصلہ کرلیا کہ میں مریم سے خود نکاح کرلوں گا۔اور ۱۹۲۰ء میں اس کی بابت ( حضرت ) ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب سے میں نے درخواست کر دی۔جو انہوں نے منظور کر لی۔نکاح کے وقت دعاؤں میں سب کی چیخیں نکل رہی تھیں۔اور گریہ وزاری سے سب کے رخسار تر تھے۔رخصتانہ کے وقت نہایت سادگی سے جا کر میں مریم کو اپنے گھر لے آیا اور حضرت اماں جان اللہ آپ سے راضی ہو ) کے گھر میں ان کو اتارا جنہوں نے ایک کمرہ ان کو دے دیا۔وہی کمرہ جس میں اب مریم صدیقہ رہتی ہیں وہاں پانچ سال تک رہیں اور وہیں ان کے ہاں پہلا بچہ طاہر احمد (اول) پیدا ہوا۔بہر حال جب میں سفر انگلستان سے واپس آیا اور آنے کے چند ہی روز بعد امۃ المی فوت ہوگئیں۔تو ان کے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے والا مجھے کوئی نظر نہ آتا تھا۔ادھر ان کی وفات کے وقت ان کے دل پر اپنے بچوں کی پرورش کا سخت بوجھ تھا۔خصوصاً امتہ القیوم بیگم کے بارہ میں وہ بار بار کہتی تھیں کہ رشید کو دائی نے پالا ہے اسے میرا اتنا خیال نہ ہوگا۔خلیل ابھی ایک ماہ کا ہے اسے میں یاد بھی نہ رہوں گی۔امتہ القیوم بڑی ہے اس کا کیا حال ہوگا۔کبھی وہ ایک کی طرف دیکھتی تھیں اور کبھی دوسرے کی طرف۔مگر اس بارہ میں میری طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھتی تھیں۔شاید بجھتی ہونگی کہ مرد بچوں کو پالنا کیا جانیں۔میں بار باران کی طرف دیکھتا تھا۔مگر دوسرے لوگوں کی موجودگی سے شرما جاتا تھا آخر ایک وقت خلوت کا مل گیا اور میں نے امتہ ائی مرحومہ سے کہا امتہ احئی ! تم اس قدر فکر کیوں کرتی ہو؟ اگر میں زندہ رہا تو تمہارے بچوں کا خیال رکھوں گا اور انشاء اللہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے دوں گا۔میں نے ان کی تسلی کے لئے کہنے کو تو کہہ دیا مگر سمجھ نہیں سکتا تھا کہ کیا کروں۔۔۔احمدیت پر سچا ایمان مریم کو احمدیت پر سچا ایمان حاصل تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قربان تھیں۔ان کو قرآن کریم سے محبت تھی۔اور اس کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتی تھیں۔انہوں نے قرآن کریم ایک حافظ سے پڑھا تھا۔اس لئے طبق خوب بلکہ ضرورت سے زیادہ زور سے ادا کرتی تھیں۔علمی باتیں نہ کر سکتی تھیں۔مگر علمی باتوں کا مزہ خوب لیتی تھیں۔جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ کا موقعہ ہوتا تھا۔تو واپسی میں ۱۳۳