حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 129
ناہ صاحب میری مریم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اَلِيْهِ رَاجِعُونَ بلانے والا ہے سب سے پیارا اے دل تو جاں فدا کر اسی นี باب چہارم حضرت ام طاہر رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبَّاوَ بِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسولَ اللَّهِ وَبِالْقُرانِ حَكَمًا۔چھتیں سال کے قریب ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم بیگم کا نکاح پہلے ہمارے مرحوم بھائی مبارک احمد سے پڑھوایا۔اس نکاح کے پڑھوانے کا موجب غالباً بعض خواہیں تھیں۔جن کو ظاہری شکل میں پورا کرنے سے ان کے اندازی پہلو کو بدلنا مقصود تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور مبارک مرحوم اللہ تعالیٰ سے جاملا اور وہ لڑکی جو ابھی شادی اور بیاہ کی حقیقت سے ناواقف تھی۔بیوہ کہلانے لگی۔اس وقت مریم کی عمر دو اڑھائی سال تھی اور وہ اور ان کی ہمشیرہ زادی نصیرہ اکٹھی گول کمرہ سے جس میں اس وقت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم ٹھہرے ہوئے تھے کھیلنے کے لئے اوپر آ جایا کرتی تھیں اور کبھی کبھی گھبرا کر جب منہ بسورنے لگتیں تو میں کبھی مریم کو اٹھا کر کبھی نصیرہ کو اٹھا کر گول کمرے میں چھوڑ آیا کرتا تھا۔اس وقت مجھے یہ خیال بھی نہ آ سکتا تھا کہ وہ بچی جسے میں اُٹھا کر گول کمرے میں چھوڑ آیا کرتا ہوں کبھی میری بیوی بننے والی ہے اور یہ خیال تو اور بھی بعید از قیاس تھا کہ کبھی وہ وقت آئے گا کہ میں اس کو اٹھا کر نیچے لے جاؤں گا مگر گول کمرہ کی طرف نہیں بلکہ قبر کی لحد کی طرف۔اس خیال سے نہیں کہ کل پھر اس کا چہرہ دیکھونگا بلکہ اس یقین کے ساتھ کہ قبر کے اس کنارہ پر پھر اس کی شکل جسمانی آنکھوں سے دیکھنا یا اس سے بات کرنا میرے نصیب میں نہ ہوگا۔