حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 86
رشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔کے لئے استعمال کر چکی ہوں۔آپ چونکہ تجربہ کار ہیں اس لئے مجھے کوئی ایسی دوا بتا ئیں جس سے میرا رنگ سفید ہو جائے۔اور ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فلاں فلاں دوائی استعمال کی ہے یا نہیں؟ اس نے نے کہا کہ وہ بھی استعمال کر چکی ہوں۔غرض اسی طرح ان کی آپس میں باتیں ہو رہی تھیں مجھے ان کی باتوں سے بڑا لطف آرہا تھا۔وہ ڈاکٹر صاحب سے بار بار کہتی تھیں کہ ڈاکٹر صاحب! یہ بیماری اتنی شدید ہے کہ باوجود کئی علاجوں کے آرام نہیں آتا۔حالانکہ یہ تو کوئی بیماری تھی ہی نہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ رنگ تھا۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب بچپن میں میرے بہت دوست ہوا کرتے تھے اور بعد میں بھی ان سے گہرے تعلقات رہے۔انہیں قرآن مجید پڑھنے کا بہت شوق تھا۔وہ اس وقت بھی کشتی میں حسب عادت اونچی آواز سے قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔میں یہ تماشہ دیکھنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب اس کا رنگ کس طرح سفید کرتے ہیں۔آخر تھوڑی دیر کے بعد سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے قرآن کریم بند کیا اور درمیان میں بول پڑے اور اسے کہنے لگے۔ڈاکٹر صاحب تم کو کوئی نسخہ نہیں بتا سکتے۔اس دنیا میں تمہارا رنگ کالا ہی رہے گا۔البتہ ایک نسخہ میں بتاتا ہوں۔قرآن کریم میں لکھا ہے کہ ”جو شخص نیک عمل کرے گا اس کا قیامت کے دن منہ سفید ہوگا“۔اس دنیا میں تو تمہارا رنگ سفید نہیں ہو سکتا ہے تم قرآن پر عمل کرو تو قیامت کے دن تمہارا رنگ ضرور سفید ہو جائے گا۔سیر روحانی جلد اول صفحه ۲۵-۲۵۵) آپ کا ایمانی جذ بہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی جلسہ سالانہ کی تقریر در منثور میں بیان کردہ ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ڈاکٹر صاحب کو کیسا یقین وایمان تھا۔ΑΛ