حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 87
ارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔حیدر آباد دکن کے طالب علم عبدالکریم صاحب کو قادیان میں ایک کتے نے کاٹ لیا اور وہ کسولی سے علاج کرا کے صحت یاب ہو کر آئے تو پھر انہیں ہائڈروفوبیا (Hydrophobia) ہو گیا۔تار دینے پر وہاں سے جواب آیا کہ افسوس! بیماری کے حملے کے بعد عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں۔Sorry! Nothing can be done for Abdul Karim حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی شفایابی کے لئے دعا اور القاء الہی کے ماتحت ظاہری علاج کے طور پر کچھ دوا بھی دی۔قدرت الہی سے یہ بچہ بالکل تندرست ہو گیا یوں کہو کہ مردہ زندہ ہو گیا۔یہ بیان کر کے حضرت صاحبزادہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ سید حبیب اللہ شاہ صاحب جب لاہور میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھے اور کلاس میں اس مرض کا ذکر آیا تو سید صاحب نے اپنے ایک ہم جماعت طالب علم سے عبدالکریم صاحب کا واقعہ بیان کیا۔طالب علم نے ضد میں آکر ان سے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ہائڈروفوبیا کا علاج ہوسکتا ہے۔سید صاحب نے دوسرے روز اپنے ہم جماعت کا نام لئے بغیر اپنے انگریز پروفیسر سے پوچھا کہ اگر کسی کو دیوانہ کتا کاٹ لے اور اس کے نتیجہ میں بیماری کا حملہ ہو جائے تو کیا اس کا بھی علاج ہے؟ پروفیسر نے چھٹتے ہی جواب دیا کہ Nothing on earth can save him د یعنی اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی“ تاثرات احباب (سیرۃ طیبہ صفحہ ۱۲۷ - ۱۲۸ ) محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے بیان کرتے ہیں:۔آپ کی وفات سے محترم ڈاکٹر عطر دین صاحب درویش (رفیق) نے بہت صدمہ محسوس کیا۔اور یہ بیان کیا کہ ہم نے بچپن کا وقت اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت اولی کے زمانوں میں گزارا۔آپ اخلاق حمیدہ کے مالک تھے۔جو ہر ملاقاتی کا دل موہ لیتے تھے۔لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں نیلا گنبد میں یہ طے پایا کہ حضرت سیدنا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا اور میرا دوڑ کا مقابلہ ۸۹