حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 213
شاہ صاحب باب ہفتم۔۔مگر افسوس کہ بظاہر یہ موقع اپنی حیات میں ناممکن معلوم ہوتا ہے۔البتہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ناممکن ممکن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔یہ انسانی خیالات ہیں وہ قادر الکل ہے۔اس کی جناب سے میں کبھی بھی مایوس نہیں ہو سکتا اور لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ( سورة الزمر :۵۴) کا سہارا مجھ کو بس کافی ہے۔۱۶۔ہمیشہ اپنے نکاح کے لئے اور اپنی اولاد کے نکاح کیلئے متقی ، صالح، عالم، شریف اور با اخلاق بیویاں تلاش کر کے نکاح میں لاؤ کیونکہ پاک زمین اور قابل اصلاح زمین میں جو بیج ی تختم بویا جاتا ہے۔وہ پاک اور لطیف اور فیض بخش اور مفید خلق پودا طیار ہو کر مثمر اور بہرہ ور نعمت کا کام دے گا۔جس سے اولاد صالح منتقی اور تابعدار والدین اور با اخلاق پیدا ہوگی۔اگر زمین کلر اور گندی شورہ دار ہوگی۔تو وہاں بیج اور تخم گو کیسا ہی پاک اور صالح واعلیٰ ہوگا۔تب بھی ایسی زمین کی تاثیر سے ضائع ہو جاوے گا اور جو پودا نکلے گا۔وہ بھی مضر اور خار مغیلاں وغیرہ کا کام دے گا۔یعنی اولا دسفلہ، رذیل، عاق اور والدین واقرباء وغیرہ مخلوق الہی کیلئے ضرر رساں ہو گی۔اس لئے نکاح میں یہ اصل یا درکھنا چاہیئے اور اسے کبھی بھی بھولنا نہ چاہئے۔یاد رکھو کہ صالح ومتقی اولا د اپنے والدین کیلئے ایک عجیب نعمت الہی اور تفضلات وانوار و برکات کا چشمہ ہے۔اس کا نمونہ حضرت سید حامد شاہ صاحب مرحوم میں دیکھو کہ اپنی ۵۵ سالہ عمر میں باوجود کثیر الاولاد ہونے کے اپنی تنخواہ اور آمدنی اور کمائی کوختی کہ ایک پیسہ تک بھی خود خرچ نہیں کرتے تھے اور اپنے بوڑھے والد کے حوالہ کر دیتے۔وہ جس طرح چاہتے ان کے بیوی یا بال بچوں میں تقسیم کرتے اور اس میں کسی قسم کا انقباض صدر اور تنگی دل محسوس نہ کرتے تھے۔بلکہ یہ کام ماتحت حکم الہی اپنے شرح صدر سے اپنی بیوی اور بال بچوں کی خوشنودی کو کالعدم سمجھتے ہوئے بجالاتے تھے اور والدین کی رضا کو مقدم سمجھتے تھے۔اس کے باوجود اپنے باپ سے کسی ادنی نافرمانی پر بھی لوگوں کے سامنے مار کھانے اور بے عزت ہونے کیلئے تیار ہو جایا کرتے اور اپنے والدین کے جوش طبع اور غصہ اور اشتعال کو بخوشی دل قبول کر کے ان کو خوش رکھتے تھے۔سبحان اللہ! اولا د ہو تو ایسی ہو لیکن بعض ایسی بھی اولا د ہوتی ہے کہ والدین ۲۱۵