حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 212
رشاہ صاحب باب ہفتم۔جاوے۔چاند سورج ، زمین ، آب و ہوا کی طرح تمام مخلوق کے ساتھ فیاضانہ سلوک کرو۔اپنے دل اور سینہ کو اخلاق فاضلہ سے منور کر کے انہیں ایک بہشتی روضہ اور فردوس اعلیٰ بناؤ۔مبارک ہیں وہ جنہوں نے یہاں سفلی زندگی میں ایسا بہشت تیار کر لیا کیونکہ بهشت و دوزخ انسان نے یہاں سے ہی اپنے لئے تیار کرنا ہے۔مبادا کہیں گرگ وخوک اور درندگان کی طرح کینہ، بغض، حسد، تفرقہ اور دل آزاری مخلوق اور حقوق العباد سے لا پرواہی وغیرہ اوصاف رذیلہ سے متاثر ہو کر اپنے سینہ کو نارِ دوزخ کی طرح مشتعل کر کے اپنے ساتھ ایک جہنم لے جاؤ۔اپنے دل اور سینہ کو اخلاق رذیلہ کی بد بودارٹی نہ بناؤ۔بلکہ اوصاف حمیدہ کے عطر اور خوشبو سے معطر ہو کر تم گلستان جنت و مشک تتار بن کر یہاں سے کوچ کرو۔بہشتیوں کے جو اوصاف کلام اللہ میں بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر سورۃ واقعہ کے مقامات اصحاب الیمین والسابقون میں ہے۔علیٰ سُرُرٍ مُوْضُونَةٍ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ (سورۃ واقعہ : ۱۶ - ۱۷) وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِةٍ اِخْوَانًا (سورۃ اعراف: ۴۴) انہیں ہمیشہ مدنظر رکھو۔تم جب اپنے رشتہ داروں اور اپنے کنبہ وغیرہ مخلوق الہی کے ساتھ اتفاق ،محبت، حسن سلوک اور ہمدردی سے اپنے گھر کو ایک بہشت اور اخلاق فاضلہ کی مشک تار کی خوشبو سے معطر کرو گے، تو تب وہ مراتب بالا و نعماء الهي جو ثُلَّةٌ مِّنَ الأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخَرِينَ (سورة الواقعۃ : ۱۵۱۴) کے لئے ہیں۔ان کے وارث و مستحق بنو گے۔ورنہ اگر یہاں تمہارے کنبہ وغیرہ ہم جنس میں اوصاف رذیلہ سے تم اپنے گھر کو دوزخ بناؤ گے تو وہاں بھی دوزخ میں مقام ہوگا۔الْعَيَاذُ بِاللهِ۔بلکہ اپنے مکان سکونتی کو بیت الدُّعَاء بنا کر ہمیشہ دعاؤں کے ذریعہ اسے جنت بنالو۔کاش میری زندگی میں تمہارے مکانات طیار ہو جاتے تو میں ان کو بیت الدعا بنا کر اپنی دعاؤں سے برکت و نزول انعام الہی کا مورد بفضلہ تعالیٰ بنا جاتا ہے۔* آپ کی یہ پاک خواہش بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں ہی پوری کی اور آپ نے اپنے بیت الدعا میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی سے اور حضرت اماں جان) اور دیگر افراد اہل بیت حضرت مسیح موعود اور آپ کے ( رفقاء) کرام سے نوافل پڑھوا کر دعائیں کرائی ہیں اور خود بھی تقریبا آٹھ سال تک اس میں دعائیں کیں۔فالحمدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔زین العابدین ۲۱۴