حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 175 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 175

رشاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره بھی ساتھ گیا۔اب جہاں مولوی عبد المغنی خان صاحب وغیرہ کے مکانات ہیں اُن دنوں یہاں بڑ کا درخت ہوتا تھا اور ڈھاب ہوا کرتی تھی۔یہاں سے گزر کر حضور علیہ السلام موڑ کے قریب پہنچے۔جہاں اب نیک محمد خان صاحب کا مکان واقعہ ہے۔تو اس موقعہ پر حکیم عبدالعزیز صاحب پسروری نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ حضور آدم کے متعلق قرآن میں آتا ہے۔عضى آدَمُ رَبَّهُ فَغَواى (سورۃ طہ: ۱۲۲ )۔ایک نبی کی شان میں ایسے الفاظ آتے ہیں۔حضور نے اس وقت تقریر فرمائی۔اس میں سے یہ حصہ مجھے اب تک یاد ہے۔حضور علیہ السلام نے عربی کے اشتقاق کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عصفور ( چڑیا ) کا لفظ بھی دو لفظوں سے مرکب ہے عصی اور فر ، عصی کے معنی قابو سے نکل گیا۔فر کے معنی بھاگ گیا۔چڑیا کو عصفور اس لئے کہتے ہیں کہ ذرا موقع پانے پر فورا ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔اس موقع پر آدمیوں کے ریلے نے مجھے پیچھے دھکیل دیا۔چونکہ حضرت اقدس تیز چلتے تھے۔اس لئے میں اس کشمکش میں پیچھے رہ گیا اور باقی باتیں نہ سن سکا۔الفضل قادیان ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ء صفحه ۴ ) اعجاز مسیحائی اور میری ٹانگ نے کوہ ہمالیہ میں سفر کرنے میں روک نہ پیدا کی“ حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب اور آپ کے افراد خانہ نے ذکر حبیب“ کی باتوں میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کی معجزانہ شفایابی کا ذکر فرمایا ہے۔اس واقعہ کے بارہ خود حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ :- ”میری عمر کوئی پانچ چھ سال کی ہوگی کہ رعیہ کے شفاخانہ کے احاطہ میں ہمجولیوں سے کبڈی کھیل رہا تھا کہ ایک ساتھی کو زمین پر گرا کر گھر کی طرف بھاگا۔عصر کا وقت تھا کہ والدہ مرحومہ چاچی میں وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں اور وہ چلیچی دروازے کی دہلیز کے سامنے پڑی ہوئی تھی۔دہلیز سے جو ٹھوکر لگی