حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 167
رشاہ صاحب ہے اپنی نفسانی غرض کے لئے نہیں کیا۔الغرض وہ میرے پہلے مرشد کچھ عرصہ بعد بدستور سابق میرے پاس آئے اور انہوں نے میری بیعت کا معلوم کر کے مجھے کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔جب آپ کا مرشد موجود ہے تو اس کو چھوڑ کر آپ نے یہ کام کیوں کیا ؟ آپ نے ان میں کیا کرامت دیکھی؟ میں نے کہا میں نے ان کی یہ کرامت دیکھی ہے کہ ان کی بیعت کے بعد میری روحانی بیماریاں بفضل خدا دور ہوگئی ہیں۔اور میرے دل کو تسلی ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا میں بھی ان کی کرامت دیکھنا چاہتا ہوں اگر تمہارا ولی اللہ (حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ مراد ہیں ) ان کی دعا سے اچھا ہو جائے تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ نے مرشد کامل کی بیعت کی ہے اور اس کا دعوی سچا ہے۔اس وقت میرے لڑکے ولی اللہ کی ٹانگ ضرب کے سبب خشک ہو کر چلنے کے قابل نہیں رہی تھی۔وہ ایک لاٹھی بغل میں رکھتا تھا اور اس کے سہارے چلتا تھا۔اور اکثر دفعہ گر پڑتا تھا۔پہلے کئی ڈاکٹروں اور سول سرجنوں کے علاج کئے گئے تھے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا تھا۔مرشد صاحب والی بات کے تھوڑے عرصہ بعد اتفاقاً ایک نیا سرجن ( میجر ہوکر ) سیالکوٹ میں آ گیا۔جس کا نام میجر ہیو گو تھا۔جب وہ رعیہ کے شفاخانہ کے معائنہ کے لئے آیا تو ولی اللہ کو میں نے دکھایا تو اس نے کہا یہ علاج سے اچھا ہوسکتا ہے مگر تین دفعہ آپریشن کرنا پڑے گا۔چنانچہ اس نے ایک دفعہ سیالکوٹ میں آپریشن کیا اور دودفعہ شفاخانہ رعیہ میں جہاں میں متعین تھا آپریشن کیا۔ادھر میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے بھی تحریر کیا۔خدا کے فضل سے وہ بالکل صحت یاب ہو گیا۔تب میں نے اس بزرگ کو کہا کہ دیکھئے خدا کے فضل سے حضرت صاحب کی دعا کیسی قبول ہوئی۔اس نے کہا کہ یہ تو علاج سے ہوا ہے۔میں نے کہا کہ علاج تو پہلے بھی تھا۔لیکن اس علاج میں شفا صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہوئی ہے۔(سيرة المهدی حصہ سوم روایت نمبر ۹۲۶) ۱۶۹