حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 105 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 105

شاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔میں اس قدر استغناء اور بے نفسی تھی کہ کسی عہدہ یا اعزاز کو آپ قطعاً قبول نہ کرتے جب تک کہ خود دعا کر کے آپ کو اس بات کا یقین نہ ہو جاتا کہ اس میں سلسلہ احمدیہ کی بہتری ہوگی۔روزنامه الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۵۲ء - نیز تاریخ احمدیت جلد ۱۵ - صفحه ۴۰۳ تا ۴۰۸) تاثرات مکرم ومحترم چوہدری مبارک مصلح الدین صاحب آپ تحریر کرتے ہیں :- حضرت سید محموداللہ شاہ صاحب کائی آئی ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر تقرر پر آپ کی رہائش مع اہل و عیال کچھ عرصہ بورڈ نگ تحریک جدید کے بالائی منزل کی سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی پارٹیشن کے جنوبی حصہ میں رہی اور شمالی حصہ میں والدم حضرت صوفی غلام محمد صاحب ( سپرنٹنڈنٹ) کا قیام مع اہل وعیال رہا۔اس قرب کی وجہ سے ہمیں حضرت شاہ صاحب سے استفاضہ کا موقعہ ملا تقسیم ملک کے بعد مرکز ربوہ کے قیام سے پہلے یہ سکول چنیوٹ میں جاری ہوا۔شاہ صاحب کے ذمہ ہیڈ ماسٹری کے علاوہ امیر جماعت کے فرائض بھی تھے۔آپکے اہل وعیال کو بھی خدمات سلسلہ کی توفیق حاصل ہوئی۔آپ کی اہلیہ فرخندہ اختر صاحبہ جامعہ نصرت ربوہ کی پرنسپل رہیں۔آپکے بیٹے سید مسعود مبارک شاہ صاحب نے جوانی میں وقف زندگی کی۔سیکرٹری مجلس کار پرداز پھر ناظر بیت المال رہے۔حضرت شاہ صاحب کے فرزند سید داؤد مظفر شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالی ( داماد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اللہ آپ سے راضی ہو) پہلے سندھ کی اراضی سلسلہ کی انتظامیہ سے منسلک رہے۔اور بعد ازاں کئی سال سے بطور واقف زندگی آنریری طور پر وکالت تبشیر میں کام کرتے رہے۔آپ بہت خوش شکل اور خوش لباس تھے۔باوجود اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے بہت ہی سادگی رکھتے تھے۔اور دلوں کو موہ لینے والی طبیعت پائی تھی۔بچوں سے نہایت شفقت کا سلوک تھا۔آنے والے کو دور سے ہی السلام علیکم کہنے میں پہل کرتے۔چنانچہ کوشش کے باوجود میں پہل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوا۔1۔2