حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 33
شاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کی عملی زندگی کا ایک طویل عرصہ رعیہ خاص میں گذرا اور آپ قریباً ۱۸۹۵ ء سے لے کر ۱۹۲۰ء تک رعیہ میں اسٹنٹ سرجن کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔اس باب میں خصوصی طور پر رعیہ کے حوالہ سے آپ کی حیات طیبہ کے بعض واقعات، مشاہدات اور تاثرات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔سیالکوٹ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا شہر ہے۔اس کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ سیالکوٹ قدیم شہر سکالہ Sakala یا ساگل Sagal سے بنا ہے۔سیالکوٹ کی موجودہ حدود ۱۸۴۷ء میں قائم کی گئیں۔۱۸۸۱ء میں اسے پانچ تحصیلوں میں تقسیم کر دیا گیا۔یعنی تحصیل سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور ، ظفروال اور رعیہ۔اُس زمانے میں تحصیل رعیہ ہیڈ کوارٹر تھا جس کا رقبہ ۴۸۷ مربع میل پر مشتمل تھا۔رعیہ کی تحصیل میں ۴۹۱ گاؤں شامل تھے۔دریائے راوی رعیہ میں شمال مشرق سے داخل ہوتا ہے "۔اُس زمانے میں تحصیل رعیہ میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب ہے*۔بطور اسسٹنٹ سرجن متعین تھے۔رعیہ کی موجودہ تحصیل و ضلع نارووال ہے اب رعیہ محض ایک گاؤں بن کر رہ گیا ہے۔البتہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر اور کچہری کے آثار باقی ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اپنے والد ماجد کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔رعیہ میں آپ کے محاسنِ اخلاق کے اثرات بتایا جا چکا ہے کہ والدم حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب سابقہ تحصیل رعیہ ضلع سیالکوٹ کے شفا خانہ میں انچارج ڈاکٹر تھے جن دنوں کا واقعہ بیان *Gazetteers of SialkoDistrict 1920, by PunjabGovt Lahore: Punjab Govt۔, 1921۔pp1-20 ۳۵