حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 34
رشاہ صاحب باب دوم۔۔۔سیرت و اخلاق کرنے لگا ہوں ان دنوں میری عمر چھ سات برس سے زیادہ نہ تھی۔تحصیل کے افسران تحصیلدار ، نائب تحصیلدار ناظر اور انچارج تھانہ سبھی حضرت والد صاحب کی بہت عزت کرتے اور ان سے حسن عقیدت رکھتے۔ان کی مستورات کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔خواہ مسلم ہوں یا ہند و یا عیسائی۔ان میں سے ایک ناظر حضرت والد صاحب کے بڑے عقیدت مند تھے۔لیکن ان کا اپنا حال یہ تھا کہ راگ و ساز کے شیدائی اور ان کے لوازمات میں کھوئے ہوئے تھے۔ایک دن ان کے بچوں سے ملنے ان کے ہاں گیا، ڈھولکی اور سارنگی کی آواز سن کر باہر کے ایک کمرے میں جھانکا۔ساری مجلس مست و مگن تھی۔لیکن ناظر صاحب کچھ شرمائے۔سیدوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔گانا بجانا تو کچھ دیر کے لئے بند ہو گیا اور مجھے اندرون خانہ بھجوادیا۔ان کی دنیا کی رنگ رلیوں کے شغف میں ان کی ہر خاص و عام میں شہرت تھی۔اب تک ان کی شکل نہیں بھولتی۔بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھی صاف۔جب میں قادیان آیا تو ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب سجدہ میں سرنگوں ہیں اور نہ معلوم اپنے مولا سے کس قسم کے راز و نیاز کی کیفیت میں غائب۔ان کے لمبے سجدوں اور طول طویل نماز کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔چہرے پر داڑھی تھی میں پہچان نہ سکا۔نماز سے فارغ ہونے پر انہوں نے مجھے خود ہی گلے لگایا اور بتایا کہ وہ وہی مولا بخش بھٹی ہیں جو رعیہ میں ناظر تھے اور جس کی شہرت جیسی تھی سب کو معلوم ہے اور مجھے ان سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب غالباً براہین احمدیہ ان کو پڑھنے کے لئے والد صاحب نے انہیں دی اور جب وہ رعیہ سے تبدیل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق بخشی اور یہ وہ مشہور (رفیق) ہیں جن کی اولاد سے ہمارے نہایت مخلص دوست ڈاکٹر شاہ نواز صاحب ہیں جنہوں نے ملازمت کے بعد اپنے آپ کو خدمت دین اور اشاعت دین حق کے لئے وقف کیا اور اب بطور (مبشر ) کام کر رہے ہیں۔(خود نوشت سوانح سید ولی اللہ شاہ صاحب۔غیر مطبوعہ ) ۳۶