حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 219
مارشاہ صاحب باب ہفتم۔تمہارے لئے روحانی کمالات تک پہنچے کا ایک رہبر ومُر شد کامل کا کام دیں گی۔اور ایسا ہوگا کہ گویا تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور آپ کی موجودگی میں ہی یہ فیض حاصل کر رہے ہو۔علاوہ ازیں یہ حل مشکلات و دفع مصائب کے لئے تمہاری دستگیری کریں گی۔اس لئے ان کتب کے مطالعہ میں جہاں جہاں مقامات دعائیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پہنچو وہاں تم بھی با ادب تضرع و خشوع سے اپنے لئے و دیگر مؤمنین کے حل مشکلات وغیرہ کیلئے دعائیں مانگو۔یہ بات قبولیت دعا کیلئے خاص وسیلہ اور ذریعہ ہوگی۔بعد فراغت از اوقات ذریعہ روزی و معاش اگر فرصت ملے تو یہ وقت ( دعوۃ ) سلسلہ عالیہ احمدیہ کیلئے اور اس کی اشاعت میں خرچ کرتے رہو کہ اس عمل ( دعوۃ الی اللہ ) سے بڑھ کر آج کل کوئی عبادت و ریاضت رضاء الہی کے حصول کیلئے نہیں ہے۔اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ شرائط بیعت کو ہمیشہ اپنے لئے دستور العمل بناؤ۔قرضوں سے بچتے رہو۔قرض بدترین بلا ہے مقروض کا جنازہ حضرت رسول مقبول علیہ السلام نہیں پڑھا کرتے تھے۔جب تک مقروض کا قرضہ ادا نہ ہو اس کی نجات مشکل ہے۔الا ماشاء اللہ۔دل آزاری و دل شکنی کسی مخلوق کی بہت بُری ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔یہ سب گناہوں سے بڑھ کر گناہ ہے۔پس خصوصا بزرگوں اور مخلص و متقی مومنوں اور اپنے سے بڑھ عمر والوں، رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار اور تم میں سے جو علم و فضل وغیرہ اوصاف حمیدہ میں بڑھ کر ہو۔ایسے تمام اشخاص کی دل آزاری تو بہت ہی مضر ہے۔حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے اپنی مثنوی میں کیا عمدہ نکتہ بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تادلے مَردِ خُدا نائید بدرد هیچ قومی را خُدا رسوا نه کرد * خصوصاً انکار امام وقت و مجد د وقت کا تو ایمان کو جڑھ سے اکھاڑ دیتا ہے۔پس اگر تم اپنی زندگانی میں امام وقت یا مجد دوقت یا اس کے کسی خلیفہ کا وقت خدا تعالیٰ کسی قوم کو رسوا نہیں کرتا جب تک کہ کسی بندہ خدا کی دل آزاری نہ کی جائے۔(مرتب) ۲۲۱